۔۔۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) روئے۔ میں نے عرض کیا: آپ رو کیوں رہے ہیں؟ فرمایا: "اے علیؑ! میں اس لئے رو رہا ہوں کہ اس مہینے میں تمہاری حرمت توڑ دی جائے گی۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے رب کے سامنے حالت نماز میں کھڑے ہو، جب پچھلوں اور اگلوں کا سب سے زیادہ شقی و بدبخت شخص ـ اور قوم ثمود کی اونٹنی (ناقۂ صاح) کی کونچیں کاٹنے والے کا بھائی ـ اٹھے گا اور تمہارے سر پر ضرب لگائے گا اور تمہاری داڑھی تمہارے سر کے خون سے رنگین ہوجائے گی۔" میں نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! کیا اس حالت میں میرا دین محفوظ ہوگا؟ فرمایا: "تمہارا دین محفوظ ہوگا۔"۔۔۔
16 مارچ 2026 - 21:54
News ID: 1792466

آپ کا تبصرہ