اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 28 سے 30 کے درمیان ہو گئی، ساڑھے پانچ ہزار افراد زیر حراست ہیں، سات سو کو جیل بھیج دیا گیا۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں اتر پردیش میں ہوئیں جہاں اٹھارہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ مسلمان نوجوان ہیں ۔
فورسز طاقت کے زور پر احتجاج روکنے کی کوشش کر رہی ہیں اور مظاہرین کو گرفتارکرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اتر پردیش میں مسلمانوں کے کاروبار کو نشانہ بنایا گیا، دکانیں زبردستی سیل کرادیں۔ مسلمانوں کی گاڑیاں اور املاک جلادیں،
نئی دلی اور چنئی سمیت ہندوستان کے مختلف شہروں میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، چنئی میں مقامی سیاسی جماعت نے بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے کرناٹکا اور اترپردیش میں ہندوستانی پولیس کی جانب سے صحافیوں پرتشدد اور بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کےاقدامات جمہوریت کاگلاگھوٹنےکےمترادف ہیں۔
/129
24 دسمبر 2019 - 08:08
News ID: 996094
ہندوستان میں شہریت سے متعلق متنازع قانون کیخلاف احتجاج میں اور شدت آگئی ہے۔