9 جولائی 2019 - 11:02
فلسطینیوں کے خلاف صہیونی جنگی جرائم کے واقعات ۷۱ سال سے پردہ راز میں

بعض واقعات جن کا تاریخی ریکارڈ میں تفصیل کے ساتھ ذکر ملتا ہے ان میں ۷۱ سال قبل کے ‘الصفصاف’ قتل عام بھی شامل ہے۔ حال ہی میں اس سنگین مجرمانہ واقعے سے پردہ اٹھایا گیا۔ ریاستی دہشت گردی کے واقعے میں ۵۲ فلسطینیوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  فلسطین میں صہیونی ریاست کےقیام نا مسعود کے۷۱ سال گذرچکے ہیں۔ یہ اکہتر برس صہیونیوں کی سفاکیت، بے رحمی، دہشت گردی اور حیوانیت کے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے۔ صہیونی ریاست کےان ریاستی جرائم اور دہشت گردی کے واقعات کا ایک دبستان موجود ہےمگر صہیونی اپنے جرائم پر جزوی یا کلی طورپر پردہ ڈال کر اپنے ہی بنائے ہوئے قانون سے راہ فرار اختیار کررہا ہے۔

اگرچہ صہیونی ریاست نے اپنے بعض پرانے ریاستی جرائم اور دہشت گردی کےواقعات سے پردہ اٹھایا ہےتاکہ دنیا کے سامنے اپنی گرتی ساکھ کو بہتر بنایا جاسکے مگر یہ واقعات اصل واقعات کا عشرعشیر بھی نہیں۔ سنہ ۱۹۴۸ء کےقیام کے بعد اب تک صہیونی ریاست کی وزارت دفاع فوج، پولیس، یہودی اور صہیونی مسلح مافیائوں اور ملیشیائوں کے جرائم پرپردہ ڈالے ہوئے ہیں۔

عبرانی اخبار’ہارٹز’ نے اپنی رپورٹ میں‌بتایا ہےکہ سنہ ۱۹۴۸ء اور اس کےبعد صہیونی اجرتی قاتلوں اور ملیشیائوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے ان گنت واقعات پردہ راز میں رکھے ہوئے ہیں۔ صہیونیوں‌ کی ریاستی دہشت گردی کے ان واقعات کو دانستہ طورپر دنیا کی آنکھوں سے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بعض واقعات جن کا تاریخی ریکارڈ میں تفصیل کے ساتھ ذکر ملتا ہے ان میں ۷۱ سال قبل کے ‘الصفصاف’ قتل عام بھی شامل ہے۔ حال ہی میں اس سنگین مجرمانہ واقعے سے پردہ اٹھایا گیا۔ ریاستی دہشت گردی کے واقعے میں ۵۲ فلسطینیوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

قانون سے کھلواڑ
جامعہ النجاح کےعالمی قانون کے ماہرپروفیسر راید بدویہ نے کہا کہ جنگی جرائم کے واقعات پر پردہ ڈالنے کے صہیونی ریاستی حربے کے کئی پہلو اور محرکات ہیں۔ صہیونی ریاست اپنے ہاتھوں کیے گئے مظالم کوبے نقاب کر کےقانونی ذمہ داریوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس لیے اس نے ریاستی جرائم پر پردہ ڈالنے کی مجرمانہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔
انہوں‌نے مزید کہا کہ صہیونی ریاست کے اپنے قانون کے تحت ایسے جرائم جن کا ارتکاب صہیونی ریاست کے کسی ادارے کے ہاتھوں ہوا ہو کچھ عرصے کے بعد ان کی تفصیلات سامنے لانا ضروری ہے تاکہ محققین کو ان حقائق کا پتا چل سکے۔ تاہم اس باب میں‌ صہیونی ریاست انتہائی کم واقعات کو سامنے لاتی اور قانون کا سامناکرنے سےفرار اختیار کرتی ہے۔

بدویہ نے کہا کہ جنگی جرائم کی تفصیلات سے متعلق نہ صرف غیرجانب دار مبصرین کوخبر نہیں‌دی جاتی بلکہ صہیونی ماہرین کو بھی ان کی بھنک نہیں پڑنے دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ایسے واقعات پردہ راز میں جن میں‌صہیونی فوج اور دیگر ریاستی اداروں کو سخت قانونی باز پرس کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

فلسطینی ماہر قانون کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کے واقعات کوسامنےلانے کےسیاسی اثرات بھی مرتب ہوتےہیں۔ چونکہ اسرائیل مسلسل اپنے کیے گئے جنگی جرائم کی ذمہ داری قبول کرنےسے انکار کرتا رہا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قیام اسرائیل کے وقت فلسطینی رضاکارانہ طورپر اپنےگھر بار چھوڑ کر زمینیں، گھر اور جائیدادیں اسرائیلیوں کے حوالے کرگئے تھے۔

اگران واقعات سے پردہ اٹھایا جاتا ہے تو اسرائیل قانونی، سیاسی، مالی اور عالمی سطح پر جواب دہ ہوسکتا ہے۔ایسی صورت میں صہیونی ریاست کو سخت نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌ نے کہاکہ عالمی قانون فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں واپسی کا حق دیتا ہے۔ یہ حق جنگ کے وقت بھی حاصل تھا۔ اگر فلسطینی سنہ ۱۹۴۸ء میں اپنے گھروں سےرضاکارانہ طورپر نکلے تھے تو انہیں آج واپس آنے سےکیوں روکا جا رہا ہے۔ ان پر ڈھانے جانےوالےمظالم پر پردہ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔چونکہ اسرائیل جانتا ہے کہ عالمی قانون کی رو سے وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ اس لیے اگر آج فلسطینیوں پر مظالم سامنے لائے جاتےہیں تو فلسطینیوں کے حق واپسی کا مقدمہ مضبوط اور اسرائیلی ریاست کم زور ہوگی۔
ماہرین قانون اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ جنگی جرائم کے واقعات پر پردہ ڈال کر اسرائیل یہ ثابت کررہا ہےکہ صہیونی مافیا اور ملیشیائوں نے فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ جنگی جرائم کا باربار ارتکاب کیا تھا۔

تاریخ مسخ کرنے کی کوشش
فلسطینی تجزیہ نگار حسام الدجنی کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قوم کی تاریخ اور اس کا تشخص مسخ کرنا چاہتی ہے۔ یہ تماشا ان دنوں عرب ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کے ساتھ دوستی ٹرین چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عرب ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات دراصل صہیونی ریاست کی ساکھ بہتر بنانا اور فلسطینی تاریخ مسخ‌ کرنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242