اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بریسلز میں یورپی یونین کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کی راہوں کا جائز لینے کی غرض سے مشترکہ ایٹمی کمیشن کا اجلاس اٹھائیس جون کو ویانا میں ہوگا
۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بھی اجلاس کے انعقاد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھائیس جون کو ہونے والے اجلاس میں ایران، جرمنی، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے نائب وزرائے خارجہ اور سیاسی عہدیداران شرکت کریں گے۔ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور یورپ کی جانب سے اپنے وعدوں کی تکمیل میں تاخیر کے پیش نظر، ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر علمدرآمد کی سطح میں کمی کے اعلان بعد ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا یہ پہلا اجلاس ہوگا۔ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کو ایک سال مکمل ہونے اور یورپی ملکوں کی جانب سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہ کرنے بعد، آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے کے بعض حصوں پر عملدرآمد روکنے اور یورپ کو تجارتی اور مالیاتی لین دیں کے وعدے پر عملدرآمد کے لیے ساٹھ روز کی مہلت دی تھی ۔
ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے بعد یورپی یونین اور یورپی ٹرائیکا نے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے اور ایران کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی لین دین کے لئے خصوصی میکینزم کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔فرانس برطانیہ اور جرمنی نے اکتیس جنوری کو ایران کے ساتھ یورپ کے خصوصی مالیاتی نظام انسٹیکس کے قیام کا باضابطہ اعلان بھی کیا تھا لیکن یہ مالیاتی سسٹم بھی اب تک فعال نہیں ہوسکا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس اکتیس پر عملدرآمد کی صورتحال کے بارے میں تیارہ کردہ اپنی رپورٹ میں ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران جامع ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترش نے اپنی رپورٹ میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ عالمی ادارے نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کے انحراف کا مشاہدہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی اور ایٹمی مواد کی جانچ پڑتال کا کام بدستور جاری رہے گا۔
سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے تحت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہر چھے میں ایک بار ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہیں۔توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی مرتب کردہ یہ رپورٹ چھبیس جون کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں بحث کے لیے پیش کی جائے گی۔ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے ذمہ دار عالمی ادارے آئی اے ای اے نے اب تک کی اپنی پندرہ رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عملدآمد کر رہا ہے۔
.......
/169