14 جنوری 2019 - 17:34
گلگت، امپھری میں شہید آغا ضیاء الدین کی برسی کے حوالے سے عظیم الشان اجتماع

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا راحت حسین الحسینی نے کہا کہ شہید ضیاء الدین رضوی نے ہمیشہ مظلوم کی حمایت میں آواز بلند کی اور حق و صداقت کا پرچار کرنے میں اپنی زندگی صرف کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق انجمن محبان اہلبیت، رضاکاران حسینی امپھری گلگت اور خانوادہ شہید آغا ضیاء الدین رضوی کے زیر اہتمام شہید رضوی اور ان کے باوفا ساتھیوں کی 14ویں برسی کے سلسلے میں ایک عظیم الشان تعزیتی اجتماع رہائش گاہ شہید رضوی امپھری میں منعقد ہوا۔ تعزیتی اجتماع میں امام جمعہ والجماعت آغا راحت حسین، صوبائی جنرل سیکرٹری اسلامی تحریک شیخ میرزا علی، سابق صوبائی وزیر دیدار علی، امیدوار حلقہ نگر چار محمد باقر حیدر سمیت متعدد علماء، سیاسی، سماجی، شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا راحت حسین الحسینی نے کہا کہ شہید ضیاء الدین رضوی نے ہمیشہ مظلوم کی حمایت میں آواز بلند کی اور حق و صداقت کا پرچار کرنے میں اپنی زندگی صرف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرے سے ظلم کے خاتمے کیلئے شہید کے مشن کو آگے بڑھانا ہوگا، جی بی میں ملت جعفریہ پر ظلم و زیادتی اور ناانصافی ہو رہی ہے، وحدت و اتفاق کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج فلسطین، شام، کشمیر اور یمن ظلم و جبر کا شکار ہیں، مگر افسوس کہ بیشتر اسلامی ممالک ظلم و جبر پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے صوبائی جنرل سیکرٹری شیخ میرزا علی نے کہا کہ شہید آغا ضیاء الدین رضوی کا مقصد قوم و ملت کی شرعی و اخلاقی تربیت کرنا تھا، شہید کہا کرتے تھے کہ گلگت بلتستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، ہم جو کہیں، جو مانگیں وفاق کو دینا ہوگا، ہم خطے کے مالک اور وارث ہیں، کوئی بھکاری نہیں، اپنی حیثیت کو پہچانو، آج تک وفاقی حکومتوں اور کمیٹیوں نے جی بی کو بھکاری کے طور پر دیکھا ہے، خطے کی اہمیت کا اندازہ انہیں نہیں ہے، بھکاریوں کی طرح کشمیر طرز کا سیٹ اپ تو کبھی عبوری آئینی صوبہ، ہم کیوں عبوری صوبے کا مطالبہ کریں، ہمارا مطالبہ صرف اور صرف پانچواں آئینی صوبہ ہے، اکہتر سالوں سے جواب دیا جا رہا ہے کہ جی بی آئین پاکستان میں شامل نہیں ہے اور شامل نہیں ہوسکتا، اس کا مطلب یہ ہوا آج تک جی بی میں کئے جانے والے تمام اقدامات غیر آئینی ہیں، کس قانون کے تحت جی بی کی بنجر زمینوں اور شاملات کو خالصہ سرکار قرار دیا جا رہا ہے؟ شیخ میرزا علی نے مزید کہا کہ عوام مختلف پارٹیوں میں تقسیم ہو کر اپنے بنیادی حقوق بھول چکے ہیں۔

سابق صوبائی وزیر دیدار علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید رضوی جی بی کے آئینی حقوق کے حوالے سے مضبوط اور زریں خیالات رکھتے تھے، شہید نے جی بی کے آئینی حقوق اور صوبے کا مطالبہ کیا تھا اور تمام مکاتب فکر کیلئے یکساں نظام تعلیم مرتب کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا، آج ان کے موقف کی ہر طرف سے تائید ہو رہی ہے۔ دیدار علی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ شہید آغا کے کیس کو فوجی عدالتوں میں چلایا جائے، جی بی کو مکمل آئینی حقوق دیئے جائیں، جو کہ استحکام پاکستان اور سی پیک کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔ اسلامی تحریک کے رہنما قیصر عباس نے کہا کہ شہید آغا کے قاتل کسی سے پوشیدہ نہیں، خاص سازش کے تحت ان کے قاتلوں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے، اجتماع سے شیخ شرافت حسین اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

برسی کے تعزیتی اجتماع کے آخر میں متفقہ طور پر ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ نصاب تعلیم شیعہ عقائد سے متصادم ہے، تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول تعلیمی نصاب مرتب کیا جائے اور 3 جون 2004ء اور اپریل 2009ء میں ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد اور نصاب تعلیم کو مرتب کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کو دیا جائے، شہید آغا ضیاء الدین اور ان کے ساتھیوں کے قتل میں ملوث سازشی عناصر کو سامنے لا کر فوجی عدالتوں میں دوبارہ کیس کا ٹرائل کیا جائے، قرارداد میں مزید کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کو منسوخ کرکے ازسر نو شفاف بھرتیاں عمل میں لائی جائیں۔

۔۔۔۔۔

/169