17 نومبر 2018 - 15:45
خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد نے دیا، امریکا کے پاس ثبوت!

"سی آئی اے" اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم براہ راست سعودی ولی عہد نے دیا تھا۔

امریکی اخبار"واشنگٹن پوسٹ" نے بتایا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی "سی آئی اے" اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم براہ راست سعودی ولی عہد نے دیا تھا۔

امریکی اخبار نے بتایا ہے کہ بعض امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کا بہ خوبی علم ہے۔

ذرائع کے مطابق "سی ائی اے" نے بن سلمان کے موقف کے برعکس موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سعودی ولی عہد کا صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ نہ صرف اس کیس سے آگاہ تھے بلکہ انہوں‌ نے ہی جمال خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق CIA  کے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر امریکی حکام کو یقین ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کا ہاتھ ہے، تاہم موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے خدشے کے تحت خاشقجی کے قتل کے حوالے سے نرمی برت رہے ہیں۔

انہوں نے سعودی ولی عہد کو اس کیس سے بری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بن سلمان کا خاشقجی قتل کیس میں کوئی زیادہ کردار نہیں تھا۔

یہ ایسے حال میں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے کہا تھا کہ اگر وہ اس کیس اپنی جان کی خلاصی چاہتے ہیں تو انہیں کئی ارب ڈالر امریکہ کو دینا ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲