30 ستمبر 2018 - 13:26
روس اور چین کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی بھرپور حمایت کا اعلان

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ روس اور چین ایٹمی معاہدے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ہفتے کو رشا ٹوڈے سے گفتگو میں کہا ہے کہ روس اور چین ایٹمی معاہدے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اس لئے کہ ایٹمی معاہدہ مختلف ملکوں کے درمیان سیاسی طریقے سے اختلافات کو دور کرنے کا بہترین نمونہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت ایسی حالت میں ایران کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ دو برس قبل خود اس وقت کی امریکی حکومت نے اس معاہدے پر دستخط کئے اور اس طرح اس معاہدے کی بنیاد پر اختلافات کے حل کا طریقہ کار واضح ہوا۔

اس سے قبل روس کے وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعے کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کیا ہے اس لئے ہم بھی اس معاہدے کے تحفظ کے لیے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے.

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تصدیق و توثیق ہو جانے والے جوہری معاہدے کی بھرپور حمایت کرنا ہماری ذمہ داری ہے.

ایٹمی معاہدہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک منجملہ امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ چین نیز جرمنی کے درمیان طے پایا تھا جس پر ان تمام ممالک نے دستخط بھی کئے تھے مگر امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ نے آٹھ مئی کو اس معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف تمام پابندیاں بحال کرے گا۔ امریکہ کے اس اقدام کےبعد ایٹمی معاہدے میں شریک تمام رکن ملکوں اور یورپی یونین نے تاکید کے ساتھ اعلان کیا کہ ایٹمی معاہدے کا تحفظ کیا جائے گا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے اقدام پر امریکہ کے اندر اور باہر کڑی تنقید کی گئی اور ان کے فیصلے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔

امریکہ کی جانب سے ایٹمی معاہدے کو ایسی حالت میں نشانہ بنایا گیا ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی؛ ایجنسی اور عالمی مبصرین و ماہین نے اس بات کی ہمیشہ تاکید کی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور ایران ایٹمی معاہدے کی پابندی کر رہا ہے۔

........

/169