27 اگست 2018 - 14:58
ایران کے وزیر دفاع کے شام دورے سے صہیونی ریاست خوفزدہ

صہیونی ریاست سے وابستہ نیوز ایجنسی “ڈبکا فائل” (DEBKAfile) نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران کے وزیر دفاع کے شام دورے کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور دمشق کے درمیان نیا فوجی معاہدہ انجام پانے کا عندیہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ “امیر حاتمی” کے دمشق دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے فوجی معاہدے کا عندیہ دیا جا رہا ہے چونکہ وہ ایک اعلی عسکری وفد کے ہمراہ شام کے دورے پر گئے ہیں۔
اس نیوز ایجنسی نے مزید لکھا ہے کہ حاتمی کا یہ دورہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر “جان بولٹن” کے جواب میں ہے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا۔ حاتمی نے اپنے شام دورے سے قبل اعلان کیا ہے کہ اس دورے کا مقصد تہران دمشق کے درمیان اسرائیل مخالف اتحاد کو تقویت بخشنا ہے۔
اسرائیلی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے عسکری وفد کے شام دورے کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے جان بولٹن سے شام سے ایرانی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر “جان بولٹن” نے گزشتہ ہفتے تل ابیب کا دورہ کر کے اسرائیلی وزیر اعظم “نیتن یاہو” اور وزیر دفاع “لیبرمن” سے ملاقات کی اور شام سے ایرانی فوج کے انخلاء کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲