25 جولائی 2018 - 16:59
’’یہودی ریاست‘‘ نسل پرستانہ قانون کی منظوری کے مقاصد (۲)

فلسطین کی حمایت در حقیقت امت مسلمہ کے اتحاد میں مضمر ہے لہذا جلد بازی، غلط تجزیہ و تحلیل اور ناسنجیدہ اقدامات سے پرہیز کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی تمام طاقت کو بیت المقدس کی حفاظت پر صرف کریں جو اسلامی ثقافت کا اہم ترین سرمایہ ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گزشتہ سے پیوستہ

۳۔ فلسطین کو مطلقا طور پر یہودی ملک میں تبدیل کرنے کا نتیجہ، فلسطینیوں کو ان کے گھر و وطن سے باہر نکال دینا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس وقت کم سے کم پانچ ملین فلسطینی جو ۱۹۴۸ کی سرزمینوں کے مالک ہیں اور ہمسایہ ملکوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی تعداد ان تمام یہودیوں سے زیادہ ہیں جو مختلف بہانوں سے دنیا کے کونے کونے سے مقبوضہ فلسطین منتقل کیے گئے۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ ملین عرب فلسطینی اس وقت ۱۹۴۸ کے سرزمینوں میں سکونت پذیر ہیں۔ اگر اسرائیل ان ڈیڑھ ملین عرب مسلمانوں کو اسرائیل سے باہر نکالنا چاہے گا تو علاقائی اور بین الاقوامی برادری ڈیڑھ ملین بے گھر فلسطینیوں کا کہاں پناہ دے گی؟ اس سے علاقے میں ایک نیا بحران کھڑا ہو گا جو ناقابل تلافی ہو گا۔ البتہ یہ عمل دفعی اور فوری طور پر اسرائیل کی پالیسی میں نہیں ہے جیسا کہ یہودی ریاست کے قانون کو منظور کرنے میں اسرائیل کو چار سال صبر کرنا پڑا، فلسطینیوں کو آوارہ وطن کرنے میں بھی انہیں وقت درکار ہو گا۔ در حقیقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے کی منظوری کے بعد عرب فلسطینیوں کے خلاف تعلیمی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں قسم قسم کی پابندیاں اور حدبندیاں لگائی جائیں گی۔ سرزمین فلسطین سے تمام عربی اسلامی آثار کو مٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ عرب مسلمانوں کے خلاف صہیونی حملوں میں یقینا شدت پیدا ہو گی۔ اور یہودی مہاجر اپنے سماجی روابط میں مسلمان عربوں کی نسبت سخت تعصب کا شکار ہوں گے۔
“یہودی ریاست” منصوبے کے تحت انجام پانے والی روزانہ صہیونی یہودی سرگرمیاں، عرب مسلمانوں کی زندگی کو دوبر کر دیں گی۔ در نتیجہ فلسطینی نوجوان متشددانہ کاروائیاں انجام دیں گے اور یہ متشددانہ کاروائیاں صہیونی فوج کے ہاتھوں میں بہانہ دیں گی کہ وہ مسلمانوں کو جیلوں میں بند کریں، ان کے گھروں کو یہودیوں کے حوالے کریں اور اس کے بعد دھیرے دھیرے مسلمانوں کو ان کی زمینوں سے باہر کریں۔ اسرائیل کی نگاہ میں مسلمانوں پر جتنا دباؤ بڑھایا جائے گا اتنا ہی وہ فلسطین چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوں گے۔
۴۔ صہیونی حکومت زمانے کو اپنے نقصان میں محاسبہ کرتی ہے۔ نیتن یاہو کے یورپ اور روس کے دورے میں انہیں یہ یاددہائی کرائی گئی کہ زمانہ یہودیوں کے نفع نہیں ہے۔ لہذا، نیتن یاہو کی شر پسند حکومت نے تصمیم لیا کہ اس اقدام کے ذریعے، یہودیوں کی قسمت آزمائی کرے۔ اور یہ ایسے حال میں ہے کہ حتیٰ یورپ بھی اس اقدام کو تحمل نہیں کر پا رہا ہے۔ یورپ کے اکثر ممالک فلسطین کو مکمل طور پر یہودی ملک بنانے کے مخالف ہیں اور مخالفت کی تین دلیلیں پیش کرتے ہیں؛ عرب مسلمان فلسطین سے یورپ کی طرف ہجرت کریں گے جو یورپ کے لیے قابل تحمل نہیں ہے، یورپ کے ساکن یہودی اسرائیل ہجرت کریں گے جس سے یورپ کی معیشت کو شدید دچکا لگے گا، اور ایران اور مذاحمتی محاذ کی جانب سے فلسطینی موقف کی حمایت میں اضافہ ہو گا اور اسرائیل کا تحفظ کرنا انہیں مہنگا پڑ جائے گا۔ اسی وجہ سے یورپی ممالک نے حتی اسلامی ممالک سے پہلے اس نسل پرستانہ قانون کے خلاف رد عمل ظاہر کیا۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کا یہ منصوبہ اگر چہ کافی حساب و کتاب کے بعد تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں زیادہ ہوشیاری نظر نہیں آتی۔
۵۔ صہیونی ریاست کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے ایسے زمانے میں اپنی طاقت کا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی اس کی طاقت سے مرغوب نہیں ہو پا رہا۔ اسرائیل علاقائی سطح پر مذاحمتی محاذ کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہو چکا ہے، تل ابیب شام اور حزب اللہ کے براہ راست نشانہ پر ہے۔ اور یہ ایسے حال میں ہے کہ صہیونی ریاست امریکہ اور روس کی فوجی حمایت کو اپنے حق میں جذب کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ لہذا اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اس قانون کو پاس کر کے بجائے اس کے کہ اپنے لیے ایک راہ نجات تلاش کرے مذاحمتی محاذ کے ہاتھ ایک ایسا بہانہ دے دیا ہے جس کے بعد وہ فلسطین اور اسلامی عربی محاذ پر زیارہ توجہ دیتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سرگرمیاں تیز کر دے گا اور اس کے عرب شرکاء یعنی سعودی عرب، عرب امارات اور مصر کو حاشیہ میں ڈھکیل دے گا۔
۶۔ آج کا زمانہ سفارتکاری اور خارجہ تعلقات کا زمانہ ہے اسلامی ممالک کے سفارتکاروں کو چاہیے کہ اسلامی ممالک میں اتحاد کی فضا قائم کریں حتیٰ غیر مسلم ممالک کے ساتھ بھی اچھے روابط برقرار کر کے انہیں صہیونی ریاست کے شرپسند عزائم سے آگاہ کریں مذاحمتی محور پر قائم محاذ میں وسعت پیدا کرنے کے لیے مقدمات فراہم کریں۔ فلسطین کی حمایت در حقیقت امت مسلمہ کے اتحاد میں مضمر ہے لہذا جلد بازی، غلط تجزیہ و تحلیل اور ناسنجیدہ اقدامات سے پرہیز کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی تمام طاقت کو بیت المقدس کی حفاظت پر صرف کریں جو اسلامی ثقافت کا اہم ترین سرمایہ ہے۔
تحریر: ڈاکٹر سعد اللہ زارعی۳۔ فلسطین کو مطلقا طور پر یہودی ملک میں تبدیل کرنے کا نتیجہ، فلسطینیوں کو ان کے گھر و وطن سے باہر نکال دینا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس وقت کم سے کم پانچ ملین فلسطینی جو ۱۹۴۸ کی سرزمینوں کے مالک ہیں اور ہمسایہ ملکوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی تعداد ان تمام یہودیوں سے زیادہ ہیں جو مختلف بہانوں سے دنیا کے کونے کونے سے مقبوضہ فلسطین منتقل کیے گئے۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ ملین عرب فلسطینی اس وقت ۱۹۴۸ کے سرزمینوں میں سکونت پذیر ہیں۔ اگر اسرائیل ان ڈیڑھ ملین عرب مسلمانوں کو اسرائیل سے باہر نکالنا چاہے گا تو علاقائی اور بین الاقوامی برادری ڈیڑھ ملین بے گھر فلسطینیوں کا کہاں پناہ دے گی؟ اس سے علاقے میں ایک نیا بحران کھڑا ہو گا جو ناقابل تلافی ہو گا۔ البتہ یہ عمل دفعی اور فوری طور پر اسرائیل کی پالیسی میں نہیں ہے جیسا کہ یہودی ریاست کے قانون کو منظور کرنے میں اسرائیل کو چار سال صبر کرنا پڑا، فلسطینیوں کو آوارہ وطن کرنے میں بھی انہیں وقت درکار ہو گا۔ در حقیقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے کی منظوری کے بعد عرب فلسطینیوں کے خلاف تعلیمی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں قسم قسم کی پابندیاں اور حدبندیاں لگائی جائیں گی۔ سرزمین فلسطین سے تمام عربی اسلامی آثار کو مٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ عرب مسلمانوں کے خلاف صہیونی حملوں میں یقینا شدت پیدا ہو گی۔ اور یہودی مہاجر اپنے سماجی روابط میں مسلمان عربوں کی نسبت سخت تعصب کا شکار ہوں گے۔
“یہودی ریاست” منصوبے کے تحت انجام پانے والی روزانہ صہیونی یہودی سرگرمیاں، عرب مسلمانوں کی زندگی کو دوبر کر دیں گی۔ در نتیجہ فلسطینی نوجوان متشددانہ کاروائیاں انجام دیں گے اور یہ متشددانہ کاروائیاں صہیونی فوج کے ہاتھوں میں بہانہ دیں گی کہ وہ مسلمانوں کو جیلوں میں بند کریں، ان کے گھروں کو یہودیوں کے حوالے کریں اور اس کے بعد دھیرے دھیرے مسلمانوں کو ان کی زمینوں سے باہر کریں۔ اسرائیل کی نگاہ میں مسلمانوں پر جتنا دباؤ بڑھایا جائے گا اتنا ہی وہ فلسطین چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوں گے۔
۴۔ صہیونی حکومت زمانے کو اپنے نقصان میں محاسبہ کرتی ہے۔ نیتن یاہو کے یورپ اور روس کے دورے میں انہیں یہ یاددہائی کرائی گئی کہ زمانہ یہودیوں کے نفع نہیں ہے۔ لہذا، نیتن یاہو کی شر پسند حکومت نے تصمیم لیا کہ اس اقدام کے ذریعے، یہودیوں کی قسمت آزمائی کرے۔ اور یہ ایسے حال میں ہے کہ حتیٰ یورپ بھی اس اقدام کو تحمل نہیں کر پا رہا ہے۔ یورپ کے اکثر ممالک فلسطین کو مکمل طور پر یہودی ملک بنانے کے مخالف ہیں اور مخالفت کی تین دلیلیں پیش کرتے ہیں؛ عرب مسلمان فلسطین سے یورپ کی طرف ہجرت کریں گے جو یورپ کے لیے قابل تحمل نہیں ہے، یورپ کے ساکن یہودی اسرائیل ہجرت کریں گے جس سے یورپ کی معیشت کو شدید دچکا لگے گا، اور ایران اور مذاحمتی محاذ کی جانب سے فلسطینی موقف کی حمایت میں اضافہ ہو گا اور اسرائیل کا تحفظ کرنا انہیں مہنگا پڑ جائے گا۔ اسی وجہ سے یورپی ممالک نے حتی اسلامی ممالک سے پہلے اس نسل پرستانہ قانون کے خلاف رد عمل ظاہر کیا۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کا یہ منصوبہ اگر چہ کافی حساب و کتاب کے بعد تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں زیادہ ہوشیاری نظر نہیں آتی۔
۵۔ صہیونی ریاست کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے ایسے زمانے میں اپنی طاقت کا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی اس کی طاقت سے مرغوب نہیں ہو پا رہا۔ اسرائیل علاقائی سطح پر مذاحمتی محاذ کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہو چکا ہے، تل ابیب شام اور حزب اللہ کے براہ راست نشانہ پر ہے۔ اور یہ ایسے حال میں ہے کہ صہیونی ریاست امریکہ اور روس کی فوجی حمایت کو اپنے حق میں جذب کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ لہذا اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اس قانون کو پاس کر کے بجائے اس کے کہ اپنے لیے ایک راہ نجات تلاش کرے مذاحمتی محاذ کے ہاتھ ایک ایسا بہانہ دے دیا ہے جس کے بعد وہ فلسطین اور اسلامی عربی محاذ پر زیارہ توجہ دیتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سرگرمیاں تیز کر دے گا اور اس کے عرب شرکاء یعنی سعودی عرب، عرب امارات اور مصر کو حاشیہ میں ڈھکیل دے گا۔
۶۔ آج کا زمانہ سفارتکاری اور خارجہ تعلقات کا زمانہ ہے اسلامی ممالک کے سفارتکاروں کو چاہیے کہ اسلامی ممالک میں اتحاد کی فضا قائم کریں حتیٰ غیر مسلم ممالک کے ساتھ بھی اچھے روابط برقرار کر کے انہیں صہیونی ریاست کے شرپسند عزائم سے آگاہ کریں مذاحمتی محور پر قائم محاذ میں وسعت پیدا کرنے کے لیے مقدمات فراہم کریں۔ فلسطین کی حمایت در حقیقت امت مسلمہ کے اتحاد میں مضمر ہے لہذا جلد بازی، غلط تجزیہ و تحلیل اور ناسنجیدہ اقدامات سے پرہیز کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی تمام طاقت کو بیت المقدس کی حفاظت پر صرف کریں جو اسلامی ثقافت کا اہم ترین سرمایہ ہے۔
تحریر: ڈاکٹر سعد اللہ زارعی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲