اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مزارات جنت البقیع کی تعمیر کے لئے کل بروز جمعہ کو مجلس علماء ہند کے زیر اہتمام پورے ہندوستان میں دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا۔ مجلس علماء ہند کے زیر اہتمام یہ تین روزہ مہم پورے ملک میں ایک ساتھ ۲۲ سے ۲۴جون تک جاری رہیگی۔
اس موقع پر مجلس علما ہند کے نائب صدر مولانا محسن تقوی نے کہا کہ ۱۹۲۵ میں سعودی حکومت کے ذریعہ جنت البقیع میں مزارات اہلبیت اطہار، اصحاب رسول اور امھات المومنین کو منہدم کر دیا گیا تھا جبکہ پوری دنیا میں ہر قوم اپنی روایات اور آثار کو باقی رکھتی ہے اور اسے عالمی سطح پر تاریخی حیثیت دلانے کی کوشش کرتی ہے مگر سعودی حکومت نے مکہ و مدینہ کے مزارات کے ساتھ ساتھ پیغمبر گرامی کی جائے ولادت اور مکان وغیرہ کو بھی منہدم کر دیا ہے جوکہ نہایت قابل مذمت ہے۔
مولانا نے کہا کہ جنت البقیع کی تعمیر سعودی حکومت کی بہت سی مشکلات کو ختم کر سکتی ہے۔
انہوں نے یمن جنگ پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ یمن میں جس طرح انسانیت کا خون بہایا جا رہا ہے اس نے حقوق انسانی کے کھوکھلے دعویداروں کی قلعی کھول دی ہے۔
جلسہ میں مولانا جلال حیدر نقوی نے بھی سعودی حکومت کے ذریعہ منہدم کئے گئے مزارات کو قابل مذمت بتایا اور کہا کہ سعودی حکومت کو چاہیے کہ وہ مزارات کی تعمیر کی اجازت دے تاکہ دنیا بھر میں بسے کروڑوں مسلمانوں کی عقیدت و جذبات کا احترام باقی رہے۔
مولانا نے کہا کہ جنت البقیع کے مزارات مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہیں جہاں سعودی حکومت کی جانب سے آج بھی پابندی عائد ہے ،جنت البقیع دنیا کا وہ واحد قبرستان جہاں صرف اس بات پر پولیس مامور رہتی ہے کہ کوئی دختر نبی کی قبر پر فاتحہ نہ پڑھنے پائے۔
مولانا مرزا عمران علی نے آخر میں مجلس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع کے روضوں کی تعمیر ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے کروڑوں لوگوں کی عقیدت کو ٹھیس پہونچی ہے اور سعودی عرب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہونچائے بلکہ دوسروں کے مذہبی جذبات کا خیال کرے ،اس موقع پر مولانا اظہر عباس، مولانا عرفان علی ،مولانا ذیشان نقوی ، شمس الحسن فیض آبادی کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور میمورنڈم پر دستخط کر کے مہم میں کا حصہ لیا۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲