اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسپوٹینک کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کے سابق نائب وزير اعظم نے شام پر مغربی ممالک کے میزائل حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب دوما کے کیمیاوی حملے میں ملوث ہیں جس کا الزام انھوں نے شامی حکومت پر لگائی ہے۔
سابق ترک نائب وزیر اعظم عبداللطیف سینر نے کہا ہے کہ اب جبکہ شام کے حالات استحکام کی طرف جارہے ہیں ہمیں شامی حکومت پر بالکل غیر منطقی الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ یہ الزامات مضحکہ خیز اور احمقانہ ہیں اور امریکہ اور سعودی بادشاہت کی خفیہ ایجنسیاں علاقے میں کھیلے جانے والے اس طرح کے خونی کھیلوں میں ملوث ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شامی حکومت نے مشرقی غوطہ پر قابض عسکریت پسندوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات سرانجام دیئے اور اس علاقے کا 90 فیصد حصہ شامی افواج کے کنٹرول میں آچکا تھا اور جیش الاسلام نے علاقہ چھوڑنے پر رضامندی کا مکتوب اعلان کیا تھا تو ایسے میں انہیں کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ لیکن بہرحال سعودی اور امریکی ایجنسیوں نے ان حملوں کے لئے انتظام کررکھا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اگر کیمیکل ہتھیاروں کے بارے میں تحقیق کرنا طے پا جائے تو سعودی عرب اور امریکی سی آئی اے کے ساتھ جیش الاسلام کے پیوند پر بھی تحقیق کرنا پڑے گی کیونکہ ان مسئلوں کو جدا نہیں کیاجاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے کیمیاوی گیسوں کے استعمال پر اکسانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ کیونکہ وہ شام میں لمبے عرصے تک رہنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲