17 اپریل 2018 - 18:42
شام پر میزائل مارتے ہوئے امریکیوں اور یورپیوں کی گھبراہٹ

محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہو تو کسی بھی فوجی طاقت پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ محاذ مزاحمت اصلی بڑی طاقت ہے جس کے سامنے اعلانیہ خضوع کا وقت آن پہنچا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملے کئے تو بڑے اطمینان سے بمباریاں کیں، مختلف النوع ہتھیار اور طیارے آتے رہے بم گراتے رہے اور تسلی سے واپس جاتے رہے لگتا تھا کہ کوئی فوجی مشق ہورہی ہے اور سامنے ایک فرضی دشمن ہے جس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن شام کے حملے میں امریکہ اور اس کے دو ساتھی گھبرائے ہوئے تھے گوکہ انھوں نے پھر بھی مسلم ممالک کی مٹی سے فائدہ اٹھایا مسلم ملک کو نشانہ بنانے کے لئے، لیکن ان کے طیارے شام کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی جرات نہ کرسکے اور دور سے میزائل داغ کر بھاگ گئے۔ حتی وہ شام کی سمندری حدود میں بھی داخل ہونے کی جرات نہ کرسکے۔
مغربی افواج جدید ہیں، ان کے پاس اعلی قسم کا اسلحہ ہے لیکن وہ بہادر اور جان سے گذرنے والے نہیں ہیں، اور اس حملے نے واضح کیا کہ جدید ہتھیار بھی کچھ بڑا کردار ادا نہیں کرتے مزاحمت کے عزم کے سامنے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ خونخوار دشمن کے حملے میں 100 میزائل استعمال ہوئے جن میں سے 71 کو مار گرایا گیا اور دنیا والوں میں سے بہت سوں کا خیال ہو کہ اس بڑے کارنامے میں روس کا کوئی کردار تھا یا پھر ایس 300 اور ایس 500 میزائل و طیارہ شکن نظامات کا کوئی کردار تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کارنامہ شامی افواج نے سرانجام دیا اور استعمال ہونے والا طیارہ و میزائل شکن نظام 15 سے 30 سال تک پرانا تھا اور اس اسلحے میں سب سے جدید نظام ایس 200 تھا جو تقریبا 20 سال پرانا ہے ؛ یوں کہئے کہ پانچ کروڑ کے کروز اور ٹام ہاک میزائل کو 5 لاکھ کے پرانے میزائل کے ذریعے تباہ و برباد کرکے یورپ اور امریکہ کو یہ ثابت کرایا گیا کہ محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہو تو کسی بھی فوجی طاقت پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ محاذ مزاحمت اصلی بڑی طاقت ہے جس کے سامنے اعلانیہ خضوع کا وقت آن پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ عراق پر سابقہ امریکی حملے کی طرح پھر اس بار بھی سعودیوں نے ہتھیاروں اور فوجیوں کے اخراجات برداشت کئے اور ترکی سمیت امریکہ کے دیگر حلقہ بگوشوں نے اپنی سرزمینیں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے سپرد کر دیں اور ذیل کے اڈے اس حملے میں استعمال ہوئے:
۔ ترکی نے انجرلیک ہوائی اڈہ امریکہ کے حوالے کیا تھا ۔۔۔ یا یوں کہئے اردوگان نے سلطان محمد سوئم اور اخوانیوں کے شیخ الاسلام بننے کے چکر میں جھوٹ موٹ کی امریکہ و اسرائیل دشمنی کی شیخیاں بگھارنے کے باوجود وقت آنے پر کفر و شرک کے سامنے حق نمک ادا کیا۔
۔ کچھ عرصے سے سعودیوں اور اماراتیوں کی شدید عداوت کا نشانہ بننے والے قطر نے بھی مغرب پر وقت آنے پر سعودیوں اور اماراتیوں کے دوش بدوش کھڑے ہوکر العدید فوجی ہوائی اڈہ امریکہ کے سپرد کیا جہاں سے طیارہ اڑ کر شام کی طرف گئے تھے۔
جنوبی ایشیائی مزدوروں کو چنے چبوانے والے اور اپنی افضلیت جتانے والے اماراتی حکمرانوں نے بھی بندگی کا اظہار کرتے ہوئے ابوظہبی ہوائی اڈہ ان کے سپرد کیا تھا جبکہ برطانوی فوج کے کرنل اور اردن کے بادشاہ عبداللہ اردنی نے السلطی ہوائی اڈہ ان کے اختیار میں دیا تھا۔
ترکی کا پرانا دشمن قبرص بھی اس حملے میں بندگی کی صف میں ترکی کے ساتھ نظر آیا اور ایک اڈہ قبرس کا بھی استعمال ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰