25 مارچ 2018 - 18:13
سعودی ولیعہد کا دورہ امریکہ اختتام پذیر، خفت بطور یادگاری تحفہ

سعودی ولیعہد نے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں اپنی امیدیں بر لانے کے بجائے، امریکہ کی خفت آمیز توقعات کو پورا کردیا / امریکی سعودیوں سے دوستی کا جھوٹا ڈرامہ رچاتے رہیں گے جس کی سعودی دولت کی امریکہ منتقلی کے لئے بھی ضرورت ہے اور بن سلمان کے پاس بھی بظاہر ان کا ساتھ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا چار روزہ دورہ واشنگٹن اختتام پذیر ہؤا اور وہ سیٹل (Seattle) اور لاس اینجلس روانہ ہوئے۔ انھیں ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں مختلف النوع معاشی اور جوہری معاہدوں کے انعقاد کی توقع تھی جو ان کے خیال میں سعودی ویژن 2010 کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ضروری تھے؛ لیکن بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں خفت و تسلیم کے اس دورے میں ـ جو کہ رعایتیں دینے کے لئے انجام پایا تھا نہ کہ رعایتیں لینے کے لئے ـ صرف ایک ہی اعزاز حاصل کرسکا اور وہ یہ کہ انھوں نے امریکی کی توقعات کو پورا کیا اور ٹرمپ نے اپنی پہلی ملاقات میں تذلیل و تخفیف کی اپنی پالیسی ـ جو امریکہ کے دوستوں کے لئے مخصوص ہے ـ پر کاربند ہوکر مختلف النوع ہتھیاروں کی فہرست فروخت کے لئے ان کے سامنے رکھی جو ان کے حالیہ رویوں کی بنا پر وہ مسترد نہ کرسکے۔ ٹرمپ نے ہتھیار ہی فروخت نہیں کئے بلکہ کئی ہزار امریکیوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کئے اور جمود کا شکار ہونے والے اسلحہ ساز کارخانوں کو ایندھن فراہم کیا۔
ٹرمپ نے اپنے دورہ ریاض کے وقت سعودی خزانے سے تقریبا 700 ارب ڈالر کی رقوم لے کر کہا تھا کہ وہ امریکہ کے ہزاروں شہریوں کو روزگار فراہم کررہے ہیں اور اب واشنگٹن میں بھی بن سلمان کی موجودگی میں اپنا یہ مدعا بجا دہرایا جس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ امریکی عوام سعودی عرب کو اپنا محسن سمجھیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی رائے عامہ کے نزدیک سعودی عرب 11 ستمبر 2001 کے حملوں کا اصل مجرم ہے اور امریکہ کے آزاد حلقے سعودی عرب کو یمن کی جنگ کے حوالے سے جنگی مجرم سمجھتے ہیں، چنانچہ ٹرمپ نے امریکی رائے عامہ کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ سعودی وہ نہیں ہیں جو وہ سمجھتے ہیں؛ چنانچہ ابھی تک اتنی ساری رقوم لینے کے باوجود امریکی سعودیوں کے احسان مند نہیں بلکہ ان پر احسان جتا رہے ہیں۔
بن سلمان کو توقع تھی کہ اس دورے کے دوران انہیں ایک مختلف شخصیت کے طور پر یاد کیا جائے اور سعودی عرب کا نیا تشخص سامنے آئے، انہیں توقع تھی کہ اس کے بعد "سعودی شہنشاہیت کو مزید ظلمات کی بادشاہی کے مترادف نہیں سمجھا جائے گا"؛ لیکن واشنگٹن پہنچتے ہی ان کا نام یمن پر عسکری جارحیت کے کمانڈر کے اور یمن میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے اصل عامل کے عنوان سے منظر عام پر لایا گیا۔۔۔ [گویا امریکی بلیک میلنگ کی کوئی انتہا نہیں] ۔۔۔ امریکی حکومت پر یمن کی جنگ میں سعودیوں کی حمایت کڑی نکتہ چینی کی گئی اور یہ مسائل اور متعلقہ سوالات امریکی ذرائع پر مکمل طور پر چھا گئے۔
ایران فوبیا کا موضوع آج امریکہ، یورپ اور ان کے علاقائی حامیوں کا مشترکہ مسئلہ اور کل کے دشمنوں کے درمیان دوستی کا مرکزہ بنا ہؤا ہے چنانچہ بن سلمان کو توقع تھی کہ ایران فوبیا کی بنیاد پر امریکی صدر کے ساتھ ہمنوا ہوکر امریکہ سے ایٹمی ری ایکٹرز خرید سکیں گے اور سعودی عرب کے اندر ہی یورینیم کی افزودگی کی اجازت بھی حاصل کرسکیں گے ۔۔۔ لیکن محمد بن سلمان کے ظاہری دوستوں نے ان کے پہنچنے کے دوسرے ہی روز امریکی کانگریس میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا بل منظور کرلیا تاکہ امریکہ کے ساتھ جوہری سودے کرنے والے ممالک جوہری ایندھن کی پیداوار کی آرزو کو ہمیشہ کے لئے ترک کردیں کیونکہ یہ ایندھن کسی بھی وقت جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لئے استعمال ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ محمد بن سلمان کے علاقائی رفیق کار ـ اور ایران فوبیا منصوبے میں سعودیوں کے شریک کار ـ بنیامین نیتن یاہو نے ان کے دورہ واشنگٹن سے پہلے ہی امریکہ کی طرف سے سعودیوں کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کی مخالفت کی تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس وقت آل سعود نے تل ابیب جانے والے اور وہاں سے آنے والے بھارتی طیاروں کو سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے اعلان کیا اسی وقت سعودیوں کے ہمزاد کی طرف سے امریکی جوہری ٹیکنالوجی کی سعودی عرب منتقلی کی مخالفت کی خبر بھی ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں  بدل گئی۔  
یہ بات بھی بطور خاص قابل غور ہے کہ بن سلمان نے دورہ امریکہ سے قبل ـ ایٹمی ٹیکنالوجی کے لئے نفسیاتی ماحول فراہم کرنے کے لئے ـ ایران کے خلاف ہرزہ سرائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنائے تو ہم بھی بنائیں گے وغیرہ وغیرہ" اور ان کے اس موقف کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ "اولا سعودی عرب ایٹمی ہتھیاروں کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور ثانیا ان ہتھیاروں کا نشانہ اسرائیل نہیں بلکہ ایران ہوگا"۔
لیکن اس کے باوجود جان سے پیارے دوستوں کی طرف کی ان ہی مخالفتوں کی بنا پر بن سلمان کا یہ دورہ چنداں کامیاب نہیں رہا؛ یہاں تک چنانچہ سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا: ہمارے دوسرے بین الاقوامی شرکاء بھی ہیں اور اگر امریکہ تعاون نہ کرے تو وہ سعودی عرب کی جوہری سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کا موقع گنوا دے گا۔
یہ الگ بات ہے کہ کیا سعودی حکمران امریکہ اور یہودی ریاست کی اجازت کے بغیر اپنے دوسرے شرکاء سے ایٹمی ٹیکنالوجی خرید سکیں گے؛ جبکہ 11 ستمبر کا کیس سعودیوں کے سروں پر لٹکتی تلوار کا کردار ادا کررہا ہے، یہودی ریاست سعودی عرب کی جوہری ٹیکنالوجی کے خلاف ہے؟
بن سلمان کو درپیش سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پرامن طریقے سے سعودی عرب کے بادشاہ بن سکیں اسی لئے وہ اپنے نصرانی اور یہودی دوستوں کی کچھ وعدہ خلافیوں یا مخالفتوں کو دل پر پتھر رکھ کر برداشت کررہے ہیں اور ان کے برسراقتدار آنے کا واحد حامی بھی امریکہ ہے چنانچہ وہ امریکہ کو بھی بلیک میل کرنے سے عاجز ہیں کیونکہ امریکہ اگر چاہے تو اقتدار کی قطار میں منتظر درجنوں سعودی شہزادوں میں سے کسی کو بھی آگے لا سکتا ہے اور انہیں سنہری جیلوں میں بند کسی بھی سعودی شہزادے کے لگژری کمرے میں بند کرسکتا ہے۔۔۔ چنانچہ ابھی انہیں بلیک میل ہونا ہے اور Do more and more  کی تعمیل کرنا ہے ۔۔۔۔ یا پھر یمن کی جنگ سے الگ ہوکر انہیں نگلتی دلدل میں تنہا چھوڑ سکتا ہے! ۔۔۔
سعودی حکمران کئی برسوں سے چین اور روس کا نام لے کر امریکہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور مسلسل امریکہ کے ہاتھوں بلیک میل ہورہے ہیں اور اگر یہ قبائلی حکومت عملی میدان میں چین یا روس کی طرف مائل ہوجائے تو خطے میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں اور یہ تبدیلیاں قطعی طور پر امریکی پالیسیوں کے موافق نہیں ہونگی اور بعید از قیاس ہے کہ سعودی حکومت کی رگ و پے پر اثر انداز ہونے والا امریکہ اتنی آسانی سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیں چنانچہ دوسری طرف سے سعودی حکومت کے اندر بڑی بڑی تبدیلیوں کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا  ۔۔۔ عوام پر اعتماد بھی سعودی شہنشاہیت کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں ۔۔۔ ۔۔۔ لہذا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے سوا اس کے کہ وہائٹ ہاؤس کی ڈکٹیشن لیتے رہیں اور تمام تر حفتوں کو برداشت کرتے رہیں۔
سعودیوں کے ہاں ایٹمی توانائی کا شدید اشتیاق پرانا ہے۔ انھوں نے 2011 میں فرانس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت پیرس حوہری سائنس اور متعلقہ فنی سازوسامان سعودیوں کو فراہم کرنے، نیز سعودی افرادی قوت کو جوہری تربیت دینے کا پابند ہؤا؛ لیکن کیا پیرس نے معاہدے پر عمل کیا؟
امریکہ اور یہودی ریاست کو بخوبی معلوم ہے کہ سعودی حکمران جوہری صلاحیت حاصل کرکے جوہری اسلحے کی طرف جائیں گے اور یہ محض ایک دعوی نہیں ہے بلکہ سعودی ولیعہد نے حال ہی میں امریکی ٹی وی چینل "سی بی ایس" کے پروگرام "60 minutes" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "اگر ایران جوہری ہتھیار بنائے تو سعودی عرب بھی ایسے ہی ہتھیار بنانا چاہے گا"؛ حالانکہ امریکہ اور یہودی ریاست سمیت، سعودیوں کے تمام تر حلیف بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام "بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی" کے زیر نگرانی کام کررہا ہے اور یہ پروگرام محض پرامن مقاصد کے لئے ہے اور ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا قائل ہی نہیں ہے۔ لیکن جب سعودی حکمران تسلسل کے ساتھ صہیونیوں اور امریکی جماعت باز گِدھوں کی خوشنودی کے لئے اطاعت گذاری کا رقص جاری رکھتے ہوئے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف زہر اگلتے ہیں، تو اس کا واحد براہ راست مطلب یہی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتے ہیں۔
سعودی قبائلیت کے اندر کے ان حقائق کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی خاندان کے اندرونی حالات بھی مناسب نہیں ہیں؛ یہاں ہزاروں شہزادے ہیں، درجنوں شہزادے بادشاہ، وزیر، امیر، گورنر وغیرہ بننے کے دائمی امیدوار ہیں، ان سب نے ابھی تک محمد بن سلمان کی ولیعہدی کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کئی ان کے ہاتھوں جیلخانوں میں بھیج دیئے گئے ہیں، سعودی حکومت کا مستقبل بالکل مبہم ہے؛ دنیا بھر میں تکفیر کا بیج بونے والے اندرونی سطح پر بھی سرگرم ہیں، مفتی حضرات کو بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے، سابقہ سعودی بادشاہوں کے بیٹے نظربند ہیں، چنانچہ لگتا ہے کہ یہ حکومت مستقبل قریب میں عدم استحکام اور اندرونی تناؤ کا شکار ہوسکتا ہے اور حکومت کسی اور کے ہاتھ میں جا سکتی ہے لہذا مغربی دوست ـ جو دوستانہ نعروں سے جذباتیت کا شکار نہیں ہوتے اور دوسروں کے دوستانہ جذبات سے اپنے مفادات حاصل کرنے کے عادی ہیں ـ سعودی عرب کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی جانب جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کے اس انکشاف کا کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ امریکی حکام سے ملاقات کے دوران محمد بن سلمان سے کہا گیا ہے کہ: "وہ (محمد بن سلمان) جاکر براعظم افریقہ کے کچھ ممالک کے مسائل حل کرنے کا اہتمام کریں، بوکو حرام اور انتہا پسندی کا مقابلہ کریں، دہشت گردی کی مالی حمایت کے اصل ذرائع کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور انتہاپسندانہ افکار کی تبدیلی میں تعاون کریں" سوا اس کے کہ امریکی حکمران اچھی طرح جانتے ہیں اور بن سلمان کو جتا رہے ہیں کہ "سعودی عرب ہی دہشت گردی اور تکفیری افکار کی ترویج کا سرچشمہ اور دہشت گرد تنظیموں کا حامی ہے؟" اور اگر امریکیوں کا یہ خیال نہ ہوتا تو اس بات کیا کیا عقلی جواز ہوسکتا ہے کہ وہ بن سلمان سے مطالبہ کریں کہ اس سلسلے میں تعاون کریں؟ کیا امریکی ایسے ملک کو ایٹمی توانائی کا حامل ملک بننے دیں گے جس کے بارے میں ان کی اصل ذہنیت یہ ہو؟
چنانچہ امریکی سعودیوں سے دوستی کا جھوٹا ڈرامہ رچاتے رہیں گے جس کی سعودی دولت کی امریکہ منتقلی کے لئے بھی ضرورت ہے اور بن سلمان کے پاس بھی بظاہر ان کا ساتھ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔  

---------
بقلم: رضا محمد مراد
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110