اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ 'عادل الجبیر' کے بیانات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودیوں کی تفرقہ انگیز پالیسیوں سے خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے.
يہ بات 'بہرام قاسمي' نے ہفتہ كے روز ايك ٹي وي چينل كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كہي.
انہوں نے سعودي وزير خارجہ كے بيانات كو بے بنياد قرار ديتے ہوئے كہا كہ سعودي وزير خارجہ كے ايسے بے بنياد، جھوٹ اور ناقابل قبول الزامات كا مقصد خطے ميں عوامي رائے كو سعودي كے تباہ كن اثرات سے انحراف كرنا ہے.
قاسمي نے كہا كہ ابھي صورتحال ميں حكومتيں اور قوموں خود ہي سعودي عرب كي تفرقہ انگيز پاليسيوں كو قريب سے ديكھ رہے ہيں اور سب جانتے ہيں كہ وہ خليج اور يمن كے بعد لبنان ميں بدامني كے لئے كوشش كر رہا ہے.
انہوں نے عادل الجبير كے جھوٹ الزامات كو مسترد اور يمن ميں ان كے وحشيانہ اقدامات كو اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ جبكہ سعوديوں خود دوسرے ممالك كے اندروني مسائل ميں مداخلت اور دہشتگردي كو پھيل كر رہے ہيں دوسرے ممالك پر دہشتگردوں كي حمايت كا الزام لگا رہے ہيں.
ايراني ترجمان نے خطے ميں حاليہ دنوں كي تبديليوں كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران علاقائي اور بين الاقوامي سلامتي اور استحكام برقرار ركھنے كے لئے بھرپور كوششيں كركے مگر ابھي صورتحال ميں خطے انتہاپسندي كي غلطي پاليسيوں كا شكار ہيں اور تمام علاقائي ممالك ان سے مقابلہ كرنے كے لئے پرعزم ہيں.
تفصيلات كے مطابق، سعودي وزير خارجہ 'عادل الجبير' نے جمعہ كے روز سي اين اين چينل كے ساتھ گفتگو كے دوران كہا كہ ايران نے يمن سے اپنے ميزائلوں كے ذريعہ رياض پر حملہ كيا.
انہوں نے كہا كہ ہم جوہري معاہدے كے ساتھ مخالف اور ايران كے خلاف نئي پابندياں عائد كرنے كے خواہاں ہيں كيونكہ اس ملك دہشتگردي كي حمايت كرتا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲