اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کا کہنا ہے ملک میں حالیہ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالرزکی خوردبرد ہوئی ہے، انسداد بدعنوانی مہم میں اب تک 201افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
شیخ سعودالمجیب نے کہا کہ گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے، زیرتفتیش افراد کیخلاف بدعنوانی سے متعلق شواہدبہت مضبوط ہیں، گرفتاریوں سےعام مالیاتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن کا اندازہ لگانے کے لیے مزید شواہد اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اس سے قبل بھی سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کا کہنا تھا کہ شاہی شخصیات، وزرا اور کاروباری افراد کی گرفتاری بد عنوانی کے خلاف جاری مہم کا آغاز ہے، گرفتار کئے گئے افراد کےخلاف تحقیقات کےذریعےثبوت پہلی ہی جمع کئے جا چکے ہیں، مشتبہ افرادکو قانونی وسائل کےاستعمال کاحق ہوگا۔
واضح رہے کہ آل سعود میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی ہے بن سلمان کرپشن کو بہانہ بنا کر سیاسی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
حراست میں لیے جانے والے افراد میں شہزادہ الولید بن طلال، شہزادہ مطب بن عبداللہ اور ان کے بھائی ریاض صوبے کے سابق گورنر شہزادہ ترکی بن عبداللہ شامل ہیں۔
سعودی عرب کے امیر ترین شہزادے کی گرفتاری کے بعد سعودی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲