5 اکتوبر 2017 - 13:45
امریکہ میں تعینات برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں نے ایرانی ایٹمی معاہدے کی حمایت کر دی

امریکہ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں نیز یورپی یونین کے نمائندے نے کانگریس کے اجلاس میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں نیز یورپی یونین کے نمائندے نے کانگریس کے اجلاس میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے سابق وزیر توانائی ارنسٹ مونیز اور سابق ایٹمی مذاکرات کار ونڈی شرمین نے جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے سے پیدا ہونے والے منفی اثرات کی بابت سخت خبردار کیا ہے۔

واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کم ڈیروچ، فرانس کے سفیر جرارڈ اراڈ، جرمنی کے سفیر پیٹر وٹنگ اور یورپی یونین کے نمائندے ڈیوڈ او سالی ون نے امریکی کانگریس کے اجلاس میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کے حق میں اپنے اپنے ملکوں کی پالیسیوں کی وضاحت کی ہے۔
یہ اجلاس جامع ایٹمی معاہدے کے حامیوں کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کو ممکنہ طور پر سبوتاژ کرنے سے باز رکھنے کی غرض سے انجام دے رہے ہیں۔
یورپی یونین کے نمائندے ڈیوڈ او سالی ون نے کانگریس کے اجلاس میں شرکت کے بعد اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ انہوں نے ارکان نگریس کو جامع ایٹمی معاہدے کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
واشنگٹن میں فرانس کے سفیر جرارڈ اراڈ نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ یورپی یونین، فرانس، جرمنی اور برطانیہ، اس نتیجہ بخش عالمی معاہدے کو باقی رکھنے کی غرض سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے سابق وزیر توانائی اور ایٹمی مذاکرات میں شریک امریکی ٹیم کے ایک اہم رکن ارنسٹ مونیز نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کو توڑنا محض ایک رسوائی نہیں بلکہ انتہائی خطرناک اقدام ہو گا۔

بوسٹن گلوب میں چھپنے والے اپنے مقالے میں ارنسٹ مونیز نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کی صورت میں امریکہ، دنیا میں تنہا ہو کر رہ جائے گا۔ ارنسٹ مونیز نے لکھا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے مکمنہ اخراج کی صورت میں دنیا، امریکہ کے خلاف ایران کا ساتھ دے گی۔
سابق امریکی سفارت کار اور اعلی ایٹمی مذاکرات کار ونڈی شرمن نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کی صورت میں امریکہ عالمی سطح پر تنہا ہو کر رہ جائے گا۔ ونڈی شرمین کا کہنا تھا کہ جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کی صورت میں شمالی کوریا کے سامنے بھی امریکہ کی رہی سہی ساکھ ختم ہو جائے گی۔
اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس بھی جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے مکمنہ اخراج کے منفی نتائج کی بابت خبردار کر چکے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے جامع ایٹمی معاہدے میں باقی رہنا ہی بہتر ہو گا کیونکہ تاحال ایسا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے کہ ایران نے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہو۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفورڈ نے بھی ایران کے جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کیے جانے کا اعتراف کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جامع ایٹمی معاہدے کو امریکہ کے لیے شرمناک قرار دیتے ہوئے اس عالمی معاہدے سے نکلنے پر زور دے رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲