اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ گیس پائپ لائن کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے کسی تیسرے فریق کا تعاون ناگزیر ہے.
یہ بات 'بیژن نامدار زنگنہ' نے گزشتہ روز تہران کے دورے پر آئے ہوئے برازیل کے وزیر تیل کے ساتھ ایک ملاقات کے موقع پر میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ ایرانی گیس پاکستان کو ہی برآمد ہوگی مگر اس منصوبے کے حوالے سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کسی تیسرے فریق کو بھی شامل تعاون کیا جائے.
ایرانی وزیر نے نے مزید کہا کہ پاک،ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں کسی تیسرے فریق کا تعاون درکار ہے جس کا اصل مقصد پاکستان کی جانب سے پائپ لائن کی تعمیری کو یقینی بنانا ہے.
انہوں نے کہا کہ تیسرے فریق کے تعاون کا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنی فروخت ہونے والی گیس کا پیسہ ملے گا.
آئی پی گیس پائپ لائن منصوبے پر پاکستان اور ایران کے درمیان 2010 میں دستخط کیے گیے تہے جس کے تحت دونوں ملکوں نے 2014 اس منصوبے کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تہا.
اس منصوبے کی تعمیر پر لاگت کا ابتدائی تخمینہ ایک اعشاریہ دو پانچ ارب ڈالر ہے.
پائپ لائن میں ہائی پریشر پر ایک ارب کیوبک فٹ گیس ترسیل ہوگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲