1 ستمبر 2017 - 17:39
یوم عرفہ اور یوم شہادت مسلم بن عقیلؑ کے سلسلے میں انجمن شرعی شیعیان کی تقریبات

یوم عرفہ اور یوم شہادتِ حضرت مسلم بن عقیلؑ کے سلسلے میں جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی کے اطراف و اکناف میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ یوم عرفہ اور یوم شہادتِ حضرت مسلم بن عقیلؑ کے سلسلے میں جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی کے اطراف و اکناف میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔ اس سلسلے کے سب سے بڑے اجتماعات مرکزی امام بارگاہ بڈگام اور قدیمی امام بارگاہ حسن آباد سرینگر میں منعقد ہوئے۔ یوم عرفہ سے مخصوص اعمال و عبادات کی انجام دہی کیلئے درجنوں مقامات پر شب خوانی کی مجالس منعقد ہوئیں۔ مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں منعقدہ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے یوم عرفہ کی اہمیت اور عظمت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے سیدنا حضرت ابراہیمؑ کی عزیز سے عزیز تر چیز کی قربانی کیلئے شعوری آمادگی اور ان کے فرزند سیدنا حضرت اسمائیل ؑ کا جذبہ صبر و رضا تاریخ انبیاؑء کا عظیم ترین ایمان افروز واقعہ ہے جس میں اہل ایمان کیلئے یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ مقدس خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے بڑی سے بڑی قربانی پر آمادگی کامیابی کی شرط اول ہے۔ سفیر حسینؑ حضرت مسلم بن عقیل کے واقعاتِ شہادت بیان کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ اہل کوفہ کی دعوت پر نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑ کی طرف سے جناب مسلم کو بطور سفیر کوفہ روانہ کرنا اسلام اور امت کی سربلندی کا ایک ناگزیر تقاضا تھا لیکن یزیدی حکومت نے جبر و تشدد اور مراعات کے بل پر کوفہ کے حالات تبدیل کرکے امام مسلم کو درجہ شہادت پر پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ حق و صداقت پر مبنی تحریکوں کو کچلنے کیلئے ہر دور میں استعماری طاقتوں نے یہی دو حربے آزمائے ۔ ظلمت و تشدد اور مراعاتی حربوں کا یہ نسخہ کشمیریوں کی تحریک کو کچلنے کیلئے بھی آزمائے جارہے ہیں۔ تاہم کشمیری قوم آج تک نہ ہی بھارت کے طاقت و تشدد سے مرعوب ہوئی اور نہ مراعاتی حربوں کے بہکاوے میں آکر مطالبہ آزادی سے دستبردار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کئے بغیر کشمیریوں کے سیاسی عدم اطمینان کا کوئی مداوا نہیں ہوسکتا اور نہ جنوب ایشیائی خطے میں امن و استحکام کی کوئی امید کی جاسکتی ہے۔ آغا صاحب نے محبوث حریت رہنماوں اور اراکین کے خلاف جاری سیاسی انتقام گیری کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے ان قائدین کی جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲