اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ وفاقی وزیر خارجہ پاکستان خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ اس وقت پاکستان اور امریکا کے درمیان کسی قسم کا کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی پر اتفاقِ رائے سے موقف اپنایا جائے گا کیونکہ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، بلکہ ہم سب کو ہی مل کر کوئی حل تلاش کرنا ہوگا کیونکہ یہ کام کوئی باہر سے آکر نہیں کرسکتا۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان کے بعد پاکستان کا ردعمل بہت واضح تھا اور اگر خود سے کسی امریکی عہدیدار نے رابطہ کیا تو ہم جواب دیں گے لیکن باضابطہ طور پر ہم کسی قسم کی بات چیت نہیں کرسکتے۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ طالبان امیر ملا منصور ایران بھی جاتے رہے لیکن انھیں ایران کے بجائے پاکستان میں نشانے بنائے جانے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔
خواجہ آصف نے بھارت پر بھی زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر اخلاص کے ساتھ عمل درآمد کرے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اگست کو افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے‘۔
نئی امریکی پالیسی میں افغانستان میں بھارت کو اہم کردار دینے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا جس کے باعث پاکستان کے ان خدشات میں اضافے ہوا تھا کہ بھارت اس موقع کو استعمال کرکے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مسائل پیدا کرے گا۔
پالیسی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے امریکی اور افغان فورسز پر ہونے والے مبینہ سرحد پار حملوں کو نہیں روکتا تو تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲