اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نامیبیا کے شہری محمد نگومبو جو ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا، وہ ۲۱ سال کی عمر میں مسلمان ہوا اور تب سے اس ملک کی ایک مسجد میں امام جماعت کی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔
نامیبیا کا یہ شہری محمد نگومبو 1942 میں نامیبیا کے ایک شہر اوساکاتی میں پیدا ہوا۔
محمد نوگومبو اپنے بارے میں بتاتا ہے کہ میں جب ۲۱ سال کا تھا تو نائجیریا کے ایک مسلمان خاندان کے پاس گیا جہاں میں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔
اس نے اپنے مسلمان ہونے کے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب میں اس خاندان سے ملا تو مجھے پتا چلا کہ وہ خاندان بھی ایک خدا کی عبادت کرتا ہے اورجہاں چاہیں دعا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس چیز کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ فقط کلیسا جا کر دعا کریں۔ اسی بات نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔
نگومبو مزید کہتا ہے کہ اس مسلمان خاندان سے گفتگو کرنے کے بعد اسلام نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میں نے اس خاندان کے پاس اسلامی تعلیمات اور نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھا اور اس کے بعد حج کی سعادت حاصل کی۔
اس کے بعد نامیبیا کے دارالحکومت ویندھوک کی مرکزی مسجد کا امام جماعت بن گیا۔
اس نے اپنے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے 14 بھائی ہیں جن میں سے 2 کو مسلمان کر چکا ہوں اور انشاء اللہ ایک دن اپنے والدین کو بھی مسلمان کر لوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169