21 جولائی 2017 - 13:06
 سرحدوں سے دہشت گردوں کا دور کرنا ہمارا ہدف نہیں / ان کے اڈوں تک جائيں گے

سپاہ پاسداران کی زمینی فوج کے کمانڈر نے کہا: شرپسندوں اور دہشت گردوں کو سرحدوں سے دور بھگانا ہی ہمارا ہدف نہیں ہے بلکہ آج ہماری حکمت عملی دہشت گردوں کے اڈوں اور اصل ٹھکانوں تک پہنچنے پر مبنی ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاک پور نے مشہد مقدس میں منعقدہ اس فوج کے کمانڈروں اور افسروں کی کانفرنس برای بصیرت افزائی اور تربیت برای قوقیت (Training for excellence) مغربی ایشیا کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے کہا: آج دہشت گردی اور دہشت گردانہ کاروائیوں کا دائرہ وسیع ہوچکا ہے، بعض حکومتیں ـ جو خود ہی دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہے ہیں ـ اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دوسرے ممالک پر دہشت گردی کی حمایت اور پشت پناہی کا الزام لگا رہی ہیں۔
سپاہ کی بری فوج کے کمانڈر نے کہا: کیا حزب اللہ لبنان جیسی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت ـ جنہوں نے اپنے ملک کے تحفظ کو اپنااصول بنایا ہے ـ یا فلسطینی تحریکوں "جہاد اسلامی" اور "حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ [حماس]" کی حمایت ـ جو صہیونی ریاست کے چنگل سے اپنے زیر قبضہ ملک کی آزادی کے لئے برسرپیکار ہیں ـ دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی ہے؟
انھوں نے علاقے کی بعض رجعت پسند حکومتوں کی طرف سے دہشت گردی کی حمایت پر کڑی تنقید کی اور سوال اٹھایا: کیا علاقے کی بعض رجعت پسند حکومتیں ـ اور ان کی چوٹی پر سعودی حکومت اور اس کے استکباری امریکی آقا کے کرتوت جو داعش، جبہۃ النصرہ، جیش الظلم اور سینکڑوں دہشت گرد ٹولوں کو جنم دیتے ہیں، انہیں دہشت گردی کی ترغیب دلاتے اور مالی اور عسکری امداد فراہم کرتے ہیں تا کہ وہ اپنے ملکوں کی قانونی حکومتوں کے خلاف نبرد آزما ہوں، ـ دہشت گردی کی جیتی جاگتی مثالیں نہیں ہیں؟
بریگیڈیئر جنرل محمد پاک پور نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جھوٹےدعویداروں کی بیان بازیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ ہرزہ سرائیاں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں گی، کیونکہ قومیں جاگ چکی ہیں اور ہوشیار ہیں اور خالص اور ناخالص کو بخوبی تمیز دیتی ہیں؛ گوکہ ممکن ہے بعض لوگ تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوں۔
انھوں نے عراق کی سالمیت اور اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: عراق کی سالمیت اور اتحاد و یکجہتی ایک ناقابل تردید اصول ہے اور عراق کی تقسیم علاقے کے کسی بھی ملک کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: سعودی حکومت سمیت دہشت گردی کی بعض حامی بعض علاقائی حکومتیں اور ستمگر شیطانی قوت امریکہ سمیت بعض بیرونی ممالک اور ان کے کٹھ پتلی حکومتوں کی خفیہ ایجنسیاں اسلامی جمہوریہ ایران کے شمال مغرب اور جنوب مشرق میں دہشت گردوں ٹولوں کو متحد کرکے ہمارے سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہیں چنانچہ سپاہ کی بری فوج دہشت گرد ٹولوں کی طرف کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدوں نیز اسلامی انقلاب کی پاسداری کی غرض سے پہلے سے کہیں زيادہ، اپنی انٹیلی جنس اور آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنانے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ہم آج ایسی یونٹوں کو ترقی دے رہے ہیں جو ہر قسم کی جنگ میں کردار ادا کرسکتی ہیں؛ اور اللہ کی مدد سے اس شعبے میں ہماری حصول یابیاں قبول تحسین ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شرپسندوں اور دہشت گردوں کو سرحدوں سے دور بھگانا ہی ہمارا ہدف نہیں ہے بلکہ آج ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ دہشت گردوں کے اڈوں اور ان کے اجتماع اور تنظیم نو کے مقامات اور ٹھکانوں تک پہنچنے پر مبنی ہے اور ہم اس مہم کو پوری طاقت اور شجاعت کے ساتھ سرکرنے کے درپے ہیں اور اس کے لئے ہم نے ضروری وسائل، ہتھیار اور متعلقہ سازوسامان اپنے ہیڈکوارٹرز اور یونٹوں کو فراہم کردیا ہے۔
سپاہ پاسداران کی بری فوج کے کمانڈر نے متعلقہ یونٹوں کی تیاری کی سطح بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: تیاری کے دو پہلو ہیں؛ ایک پہلو معنوی، اخلاقی، اعتقادی اور ترغیبی ہے اور دوسرا پہلو جنگی تیاری ہے اور سپاہ کی بری فوج کی فورسز کے لئے دونوں پہلؤوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور انہیں دونوں پہلؤوں میں اعلی صلاحیت حاصل کرنا ہوتی ہے جس کا لازمہ یہ ہے کہ دفاع مقدس کی تعلیمات کو زندہ رکھا جائے تا کہ یونٹوں میں آنے والے تازہ دم افسر اور جوان ان خالص تعلیمات سے شجاعت اور مجاہدت کا سبق لیں اور ان تعلیمات کی روشنی میں اس مقدس ادارے میں خدمت کو جاری رکھیں جو اقدار پر استوار مقدس ادارہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110