اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف بددیانت ثابت ہوچکے ہیں، انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفٰی دے دینا چاہیے۔ جمہوریت کی پاسداری اور کرپٹ نظام کے خاتمے کے لئے ہم اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ظالم، جابر اور متکبر حکمرانوں کے لئے پانامہ لیکس اللہ کی طرف سے بے آواز لاٹھی ثابت ہوئی ہے۔ حکمرانوں کی یہ کوشش رہی کہ پانامہ کیس کو لٹکایا جاتا رہے، لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ حکومتی اراکین کی طرف سے جے آئی ٹی کے اراکین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں تک دی گئیں، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے حکمران اقتدار کو بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین کسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ موجودہ سپریم کورٹ اور جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں بہت فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں موجود ہر شخص حکومت کا ترجمان بنا ہوا ہے۔ مسلم لیگ کے اراکین جماعت کی بجائے خاندان کا دفاع کر رہے ہیں۔ جے آئی ٹی کے فیصلے کو حکومت کی طرف سے سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن حکمران یہ نہیں بتا رہے کہ سازش کون کر رہا ہے۔
ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف سازش نہیں ہو رہی بلکہ حکمران خاندان کے کرتوتوں کا پول کھل رہا ہے۔ جب بھی ان کی کرپشن بے نقاب ہوتی ہے، یہ چیخنے لگتے ہیں کہ سسٹم، ملک اور جمہوریت کو خطرہ ہے۔ اصل میں خطرہ نواز شریف کو ہے۔ بڑے مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لایا جا رہا ہے، جو حکمرانوں کے لئے تکلیف کا باعث ہے۔ سربراہ ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ نواز شریف یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ نہ رہیں تو یہ سسٹم بھی باقی نہ رہے۔ انہیں یہ حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ سسٹم کی بقا کے لئے افراد کی قربانی تو دی جا سکتی ہے، لیکن کسی فرد کے لئے پورے سسٹم کو دائو پر نہیں لگایا جا سکتا۔ ملکی ادارے تباہی و بدحالی کا شکار ہیں، جبکہ حکمرانوں اور وزراء کے ذاتی ادارے کامیابی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ جو حکومتی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے، انہیں پاکستان کے استحکام سے ذاتی کاروبار زیادہ عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ نواز شریف کو ہٹا کر کسی نئے شخص کو وزیر اعظم نامزد کیوں نہیں کرتی۔ پاکستانی قوم کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماڈل ٹائون کے شہدا کے خون میں ہاتھ رنگنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
.......
/169