1 جولائی 2017 - 12:33
حق و انصاف کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو دہشتگرد قرار دینا ظلم و تسلط کی حوصلہ افزائی: آغا حسن

آغا صاحب نے کہا کہ اگرچہ کشمیر کے حوالے سے رہبر معظم کی طرف سے وقتاً فوقتاً بیانات آتے رہتے ہیں تاہم ایسی صورت حال میں جب بھارت کشمیریوں کی برحق تحریک کو ختم کرنے کے لئے انتہائی بربریت پر اتر آیا ہے اور پاکستان کو تنہا کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں رہبر معظم کا بیان ہمارے لئے امید افزا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے کشمیری مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کے حالیہ بیان کا والہانہ خیر مقدم کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ، سینئر حریت رہنما اور جعفریہ سپریم کونسل آزاد کشمیر کے سرپرست اعلیٰ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا ہے شیعیان عالم کے اعلیٰ ترین دینی قائد ہونے کی حثیت سے امام خامنہ ای کا بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ اگرچہ کشمیر کے حوالے سے رہبر معظم کی طرف سے وقتاً فوقتاً بیانات آتے رہتے ہیں تاہم ایسی صورت حال میں جب بھارت کشمیریوں کی برحق تحریک کو ختم کرنے کے لئے انتہائی بربریت پر اتر آیا ہے اور پاکستان کو تنہا کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں رہبر معظم کا بیان ہمارے لئے امید افزا ہے ۔ آغا صاحب نے کہا کہ رہبر معظم کا بیان انقلاب اسلامی ایران کے اساسی نصب العین، مظلومین عالم کی حمایت کی ایک کڑی ہے ۔آغا صاحب نے کہا کہ اپنے حقوق اور مسلط قوتوں سے نجات کی جدوجہد کرنے والے مظلوم مسلمانوں کودہشتگرد قرار دے کر مظلومین عالم کی انصاف خواہ آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ امریکہ دنیا میں اپنے مفادات اور عالم اسلام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی طرفداری کرنے والے ممالک کو خوش رکھنے کے لئے انسانیت اور انصاف کے قتل میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔ اسی مکروہ مقصد کے لئے امریکہ حزب اللہ لبنان ،فلسطین کی حماس، یمن کی انصاراللہ اور بحرین کی الوفاق جیسی حقوق طلب مزاحمتی جماعتوں کو پہلے ہی دہشتگرد قرار دے چکا ہے ۔اس امریکی اقدام کے بعد یہ تنظیمیں مزید مستحکم اور مضبوط ہوگئیں۔سید صلاح الدین کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کے بعد کشمیر میں بھی ان ہی نتائج کی توقع رکھی جانی چاہیے۔استکباری قوتیں حریت پسندوں پر دہشتگردی کی لیبل لگاکر ظلم و تسلط کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔پاراچنار پاکستان اور کوئٹہ میں شیعہ مسلمانوں پردہشتگردانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی درپے خارجی قوتیں مسلکی انتہا پسندی کو فروغ دینے میں برابر مصروف عمل ہیں۔ انھوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ شیعہ برادری کو عدم تحفظ کے دلدل سے نکالنے کے لئے مؤثر اقدام کرے۔

پاکستان میں مسلکی انتہا پسندی اور تشدد کے خاتمے کیلئے مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے قائم کردہ الائنس کا خیر مقدم کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ یہ ایک بر وقت اقدام ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت پاکستان مذکورہ الائنس کی سفارشات اور صلاح ومشوروں پر سنجیدگی سے غور و فکر کرکے ملک میں مسلکی انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کیلئے کمر بستہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لاہور دہشتگرد حملے کے چند متاثرین سے وزیر اعظم پاکستان کی لاہور آکر اظہار یکجہتی اور دوسری طرف پارہ چنار میں سیکنڑوں افراد کے قتل عام اور عوامی مطالبے کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم کا پارہ چنار آنے سے گریزکرنا باعث تشویش ہے۔ جہاں کے عوام کا سب سے بڑا جُرم فلسطینی مظلوم عوام پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف یوم قدس کے جلوس میں شرکت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲