اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے منتخب صدر نے کہا کہ ایران عوام اپنے دفاع کے لئے کسی سے نہیں پوچھیں گے اور نہ ہی اپنے میزائل تجربے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں گے مگر ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب صحیح راستہ اپنائے گا کیونکہ طاقت ھتھیاروں کی خریداری سے نہیں ملتی.
ڈاکٹر روحانی نے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد پیر کے روز اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ملکی اور غیرملکی میڈیا اور صحافیوں کی موجودگی میں اندرونی مسائل، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال اور اپنی آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی.
صدر روحانی نے ریاض میں ہونے والی کانفرنس اور ایران مخالف ٹرمپ کے الزامات کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے ماضی میں بھی ایسے پروگرام کا انعقاد کیا تھا، انسداد دہشتگردی کی آڑ میں ایک قوم کا پیسہ عالمی طاقتوں کو دینے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا.
انہوں نے مزید کہا کہ عراق، شام اور لبنان خطے میں دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے ایرانی عوام عسکری مشاورت اور سفارتکاری کے ذریعے این ممالک کی مدد کریں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا.
ایران کے منتخب صدر نے کہا کہ آج کون کہہ سکتا ہے کہ ایران کے بغیر خطے میں قیام امن و استحکام ممکن ہے، ایران،شام، عراق اور روس کے سوا خطے میں کون دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہا ہے، کون دہشتگردوں کی مالی حمایت کر رہا ہے، جو ممالک دہشتگردوں کو پیسہ دے رہے ہیں اور انسداد دہشتگردی کا دعوے دار نہیں بن سکتے.
صدر روحانی نے مزید بتایا کہ مجھے نہیں لگتا امریکی عوام اربوں ڈالر کے بدلے میں نائن الیون کے ہولناک واقعے کو فراموش کرسکے گا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا الزامات لگانے سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مخلص اور شفاف اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے.
ایرانی صدر نے اپنی صدارت کے دوسرے دور میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ نے 30 سالوں میں مختلف راستے اپنائے ہیں، امریکیوں نے متعدد ھتکنڈے ہمارے خلاف استعمال کئے ہیں مگر اس نے ہمیشہ شکست کھائی ہے.
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ، ایران کے خلاف کوئی منفی راستہ اپنائے تو وہ کامیاب نہیں ہوگا، بدقسمتی سے امریکی حکام نے ہمیشہ ہمارے خطے کے بارے میں غلط فیصلے کئے.
صدر روحانی نے کہا کہ بہتری اسی میں ہے کہ امریکہ اپنے عوام کے مفادات کا خیال رکھیں اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرے.
انہوں نے ایران مخالف سعودی الزامات کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے پہلے دور میں دنیا کو یہ بتادیا کہ ہمیں تشدد اور انتہاپسندی سے پاک دنیا کی ضرورت ہے اور تشدد اور انتہاپسندی آج ہمارے خطے اور دنیا کے لئے اصل خطرات ہیں.
ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں اکٹھا ہونے والے بھی اس بات کی تہ تک پہنچ چکے ہیں کہ اعتدال اور امن کا راستہ اپنانا چاہئے، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے، جنگوں کو ہوا دینا دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے کا موقع نہیں رہا.
انہوں نے امریکی نیوز چینل سی بی ایس کے رپورٹر کے سوال پر کہ کیا امریکہ،سعودی اربوں ڈالر کے ھتھیاروں کے معاہدے کے بعد کیا ایران بھی اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لئے ھتھیاروں کی خریداری کرنے کا فیصلہ کرے گا، تو انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے عوام ہمارے دوست ہیں اور ہم ہمیشہ سے ان سے محبت رکھتے ہیں.
ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب صحیح راستہ اپنائے کیونکہ طاقت کا راستہ ھتھیار اور ھتھیاروں کی خریداری سے نہیں ملتا.
انہوں نے کہا کہ ایران میں شفاف انتخابات ہوتے آرہے ہیں مگر ٹرمپ نے ایک ایسا ملک کا دورہ کیا جس کو انتخابات کا مطلب نہیں پتہ، وہاں کے عوام نے کبھی بھی بلیٹ باکس نہیں دیکھے مگر ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی ایک دن ایسے انتخابات کا انعقاد کرائے گا جس سے خاندانی اور وراثت سے آئے ہوئے حکمرانوں کی گنجائش نہ ہو اور اس دن سے سعودی عرب کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا.
ایران کے منتخب صدر نے کہا کہ ایران عوام اپنے دفاع کے لئے کسی سے نہیں پوچھیں گے اور نہ ہی اپنے میزائل تجربے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں گے مگر ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب صحیح راستہ اپنائے گا کیونکہ طاقت ھتھیاروں کی خریداری سے نہیں ملتی.
امریکہ کی اجازت نہیں لیں گے، امید ہے سعودی عرب صحیح راستہ اپنائے گا: صدر روحانی
ڈاکٹر روحانی نے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد پیر کے روز اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ملکی اور غیرملکی میڈیا اور صحافیوں کی موجودگی میں اندرونی مسائل، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال اور اپنی آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی.
صدر روحانی نے ریاض میں ہونے والی کانفرنس اور ایران مخالف ٹرمپ کے الزامات کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے ماضی میں بھی ایسے پروگرام کا انعقاد کیا تھا، انسداد دہشتگردی کی آڑ میں ایک قوم کا پیسہ عالمی طاقتوں کو دینے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا.
انہوں نے مزید کہا کہ عراق، شام اور لبنان خطے میں دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے ایرانی عوام عسکری مشاورت اور سفارتکاری کے ذریعے این ممالک کی مدد کریں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا.
ایران کے منتخب صدر نے کہا کہ آج کون کہہ سکتا ہے کہ ایران کے بغیر خطے میں قیام امن و استحکام ممکن ہے، ایران،شام، عراق اور روس کے سوا خطے میں کون دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہا ہے، کون دہشتگردوں کی مالی حمایت کر رہا ہے، جو ممالک دہشتگردوں کو پیسہ دے رہے ہیں اور انسداد دہشتگردی کا دعوے دار نہیں بن سکتے.
صدر روحانی نے مزید بتایا کہ مجھے نہیں لگتا امریکی عوام اربوں ڈالر کے بدلے میں نائن الیون کے ہولناک واقعے کو فراموش کرسکے گا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا الزامات لگانے سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مخلص اور شفاف اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے.
ایرانی صدر نے اپنی صدارت کے دوسرے دور میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ نے 30 سالوں میں مختلف راستے اپنائے ہیں، امریکیوں نے متعدد ھتکنڈے ہمارے خلاف استعمال کئے ہیں مگر اس نے ہمیشہ شکست کھائی ہے.
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ، ایران کے خلاف کوئی منفی راستہ اپنائے تو وہ کامیاب نہیں ہوگا، بدقسمتی سے امریکی حکام نے ہمیشہ ہمارے خطے کے بارے میں غلط فیصلے کئے.
صدر روحانی نے کہا کہ بہتری اسی میں ہے کہ امریکہ اپنے عوام کے مفادات کا خیال رکھیں اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرے.
انہوں نے ایران مخالف سعودی الزامات کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے پہلے دور میں دنیا کو یہ بتادیا کہ ہمیں تشدد اور انتہاپسندی سے پاک دنیا کی ضرورت ہے اور تشدد اور انتہاپسندی آج ہمارے خطے اور دنیا کے لئے اصل خطرات ہیں.
ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں اکٹھا ہونے والے بھی اس بات کی تہ تک پہنچ چکے ہیں کہ اعتدال اور امن کا راستہ اپنانا چاہئے، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے، جنگوں کو ہوا دینا دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے کا موقع نہیں رہا.
انہوں نے امریکی نیوز چینل سی بی ایس کے رپورٹر کے سوال پر کہ کیا امریکہ،سعودی اربوں ڈالر کے ھتھیاروں کے معاہدے کے بعد کیا ایران بھی اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لئے ھتھیاروں کی خریداری کرنے کا فیصلہ کرے گا، تو انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے عوام ہمارے دوست ہیں اور ہم ہمیشہ سے ان سے محبت رکھتے ہیں.
ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب صحیح راستہ اپنائے کیونکہ طاقت کا راستہ ھتھیار اور ھتھیاروں کی خریداری سے نہیں ملتا.
انہوں نے کہا کہ ایران میں شفاف انتخابات ہوتے آرہے ہیں مگر ٹرمپ نے ایک ایسا ملک کا دورہ کیا جس کو انتخابات کا مطلب نہیں پتہ، وہاں کے عوام نے کبھی بھی بلیٹ باکس نہیں دیکھے مگر ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی ایک دن ایسے انتخابات کا انعقاد کرائے گا جس سے خاندانی اور وراثت سے آئے ہوئے حکمرانوں کی گنجائش نہ ہو اور اس دن سے سعودی عرب کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲