اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے سعودی حکام کے اشتعال انگیز اور غیرسنجیدہ بیانات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا جواب صرف یہی ہے کہ ہم ان کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتے.
یہ بات 'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کا احساس کریں تا کہ مفاہمت اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم ہو.
قاسمی نے کہا کہ جب ہم مفاہمت اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم حکومتوں اور ممالک کے رویے کی تایید کرتے ہیں، سعودی عرب علاقائی معاملات بالخصوص یمن اور ایران پر غلطیوں کا مرتکب ہوا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب ایک منصفانہ فضا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کرے.
قاسمی نے ایران مخالف غیرجوہری پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے مگر سفارتکاری میں کوئی بھی کام ممکن ہے.
انہوں نے جوہری معاہدے کے نفاذ پر امریکی رویے کے حوالے سے بھی کہا کہ امریکہ کو مزید تجویز دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے یہ بات سمجھ آئی ہوگی کہ ایران کو کیا مقام حاصل ہے اور امریکہ کو ایران کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہئے.
ایرانی ترجمان نے کہا کہ جوہرہ معاہدہ ایک چند فریقی معاہدہ ہے اور اس حوالے امریکہ کو بھی ایک سنجیدہ پالیسی اپنانی ہوگی.
انہوں نے صہیونی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ فلسطین اور مظلوم فلسطینی عوام پر ناجائز صہیونی ریاست اور اور ان کے قابض حکمرانوں کے غیرانسانی روئے کسی پوشیدہ نہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲