24 اپریل 2017 - 17:40
پاکستانی اسپیکر کی ایرانی صدر سے ملاقات، کئی موضوعات پر گفتگو

ایرانی صدر نے کہا کہ وہ ممالک جو پچھلے کئی سالوں سے طالبان، القاعدہ اور داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کو مالی امداد اور ھتھیاروں کی فراہمی میں ملوث رہے ہیں، آج دہشتگردی کے خلاف جنگ کرنے کے دعوے دار نہیں بن سکتے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ وہ ممالک جو پچھلے کئی سالوں سے طالبان، القاعدہ اور داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کو مالی امداد اور ھتھیاروں کی فراہمی میں ملوث رہے ہیں، آج دہشتگردی کے خلاف جنگ کرنے کے دعوے دار نہیں بن سکتے.
دہشتگردوں کے حامی ممالک، اس لعنت کے خلاف جنگ کرنے کے دعویدار نہیں بن سکتے: ایرانی صدر
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت 'حسن روحاني' نے پير کے روز تہران ميں پاکستان کي قومي اسمبلي کے اسپيکر 'سردار اياز صادق' کے ساتھ ايک ملاقات ميں گفتگو کرتے ہوئے کيا.

اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور ديا ہے کہ پاک،ايران تعلقات کي توسيع اور باہمي تعاون کو مزيد مستحکم کرنے کے لئے تمام مواقع اور مشترکہ صلاحيتوں کو بروئے کار لانے کي ضرورت ہے.

ايران اور پاکستان کے درميان مختلف شعبوں ميں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے اہم مواقع اور صلاحيتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باہمي تجارتي حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کے لئے دونوں ممالک کے تعاون کو مزيد وسعت ديني ہوگي.

پاک،ايران برادرانہ تعلقات کا حوالہ ديتے ہوئے صدر روحاني نے بتايا کہ گزشتہ 70 سالوں سے اسلامي جمہوريہ ايران پاکستاني قوم کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم سمجھتے ہيں کہ دونوں ممالک کے حکام اور پارليمنٹ اراکين کے درميان مسلسل رابطے اور وفود کے تبادلوں سے باہمي تعلقات کو مزيد بڑھانے کي راہ ہموار ہوگي.

انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ پاک،ايران روابط کو بڑھانے کے لئے موجودہ مواقع سے جتنا استعمال کرنا چاہئے تھا استعمال ہوا لہذا دونوں ممالک کو اس مقصد کے لئے تعميري اقدامات اٹھانے ہوں گے.

صدر روحاني نے ايران اور پاکستان کے مشترکہ گيس پائپ لائين کي تکميل کي اہميت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ ايران پاکستان کي توانائي ضروريات پوري کرنے کيلئے تيار ہے.

انہوں نے بتايا کہ پاک،ايران گيس پائپ لائن کو پاکستاني سرحد تک پچھائے گئي ہے اور ہميں اميد ہے کہ پاکستان بھي اس منصوبے کو پايہ تکميل تک پہنچانے کے لئے ضروري اقدامات کرے گا.

ايراني صدر نے پاک،ايران بندرگاہوں کے فروغ کا خيرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور ديا کہ گوادر اور چاہ بہار بندرگاہيں ايک دوسرے کي حريف پورٹس نہيں ہيں بلکہ دونوں بندرگاہوں کے درميان تعاون کو فروغ دينے کي ضرورت ہے.

انہوں نے ايران اور پاکستان کے درميان زميني اور ريلوے ٹرانسپورٹيشن راہداري کے قيام پر زور ديا اور کہا کہ دونوں ممالک کي بندرگاہوں کے مواقع کا استعمال سے خطے کے ديگر ممالک کو بھي فائدہ ملے گا.

صدر حسن روحاني نے پاک،ايران مشترکہ سرحد کي اہميت کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کي سرحدوں کي سيکورٹي کو مزيد مضبوط کرنے کا سلسہ جاري رکھنا ہوگا.

انہوں نے کہا کہ آج خطے اور عالم اسلام ميں قيام امن و استحکام ناگزير ہے اور اس مقصد کے لئے تمام اسلامي ممالک کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا.

ايراني صدر نے کہا کہ آج خطہ دہشتگردي کي لعنت کا شکار ہے جس کا خاتمہ کرنے کے لئے تمام علاقائي ممالک کو باہمي تعاون کرنا چاہئے.

انہوں نے بتايا کہ انسداد دہشتگردي پر نام نہاد اتحاد کے قيام خطے ميں امن و سلامتي کو برقرار رکھنے کے لئے کارآمد نہيں ہوگا.

تفصصيلات کے مطابق، اس ملاقات ميں پاکستاني پارليمنٹ کے اسپيکر نے تہران اور اسلام آباد کے درميان قريبي تعلقات کو مزيد بڑھانے پر زور ديا.

سردار اياز صادق نے دونوں ممالک کے سفارتکاروں اور حکام سے مطالبہ کيا کہ دوطرفہ تعاون کو مزيد مضبوط کرنے کے لئے تعميري کردار ادا کريں.

انہوں نے چابہار اور گوادر بندرگواہوں کے درميان قريبي تعاون کا خيرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاک،چين اقتصادي راہداري منصوبے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کي شموليت کے خواہاں ہيں.

پاکستاني اسپيکر نے ايران کے ساتھ باہمي تجارتي حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کے لئے مشترکہ اقتصادي سرگرميوں کو مزيد بڑھانے پر زور ديا.

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپني توانائي مشکلات کے خاتمے کے لئے ايران کي صلاحيت سے استفادہ کرسکتا ہے اور اس حوالے سے ہم پاک،ايران گيس پائپ لائن کو مکمل کرنے کے لئے بھي پُرعزم ہيں.

سردار اياز صادق نے کہا کہ آج خطے ميں طالبان اور داعش کے دہشتگرد طاقتور ہورہے ہيں لہذا ايسے عناصر کے خاتمے کے لئے باہمي تعاون کو بڑھانے کي اشد ضرورت ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲