2 اپریل 2017 - 11:33
امریکی حکام نے ایرانی مخالف اقدامات کے نئے دور کا آغار کر دیا

امریکی حکام نے ایران مخالف اقدامات کے نئے دور کا آغاز کر دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی حکام نے ایران کے خلاف علاقے کے عرب ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت، دہشت گردی کی حمایت اور ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ بنانے جیسے بے بنیاد الزامات اور بہانے بناتے ہوئے ایران مخالف اقدامات کے نئے دور کا آغاز کیا ہے-

وائٹ ہاؤس کے حکام کے بیانات اور ساتھ ہی ایران کے میزائلی پروگرام کے بارے میں امریکی کانگریس میں خصوصی ورکنگ گروپس کی تشکیل اور ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر ممکنہ پابندیوں کے بارے میں لفاظیاں، اسی سلسلے میں قابل غور ہیں-

امریکی وزیرجنگ جیمز ماٹیس نے اپنے حالیہ دورہ لندن میں ایران پر دہشت گردی کی حمایت کرنے جیسا بیہودہ اور بے بنیاد الزام عائد کیا تھا اسی طرح کا بیان نیٹو میں امریکا کے سابق فوجی کمانڈر جیمز جونز نے بھی دیا ہے۔

انہوں نے اپنے گمراہ کن بیان میں دعوی کیا ہے کہ ایران، ایک حقیقی خطرہ ہے اور عربی نیٹو کی تشکیل کو تہران کے  لئے ایک واضح پیغام سے تعبیر کیا ہے-

امریکی حکام حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے مسلسل ایران پر علاقے کے ملکوں میں مداخلت کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام عائد کر رہے ہیں-

چنانچہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات ویسے ہیں جیسے کسی کو غلط  پتہ بتا دیا جائے- ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی وزیرجنگ کے ایران مخالف جھوٹے،  بے بنیاد اور تکراری بیانات کے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی حکام کو چاہئے کہ وہ ایران کے خلاف مخاصمانہ بیان دینے اور دہشت گردی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے  تعلق سے اپنی شکست خوردہ پالیسی کو جاری رکھنے کے  بجائے علاقے میں اپنے اتحادی ملکوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ تکفیری دہشت گرد گروہوں کے لئے اپنی مالی، اسلحہ جاتی اور نظریاتی حمایت بند کر دیں۔

درحقیقیت امریکا کوشش کر رہا ہے کہ ایران کو علاقے اور دنیا کے لئے ایک خطرہ بنا کر پیش کرے تاکہ شاید وہ اس طرح عالمی برادری کو ایران کے مدمقابل قرار دے اور اس کا مطلب عالمی برادری کو دھوکہ دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے-

جیسا کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی اقدامات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اس خطرناک لعنت کے حقیقی اسباب، جڑوں اور مالی ذرائع کو نظرانداز کرنا اور دہشت گردوں کے اصلی حامیوں کی جانب سے عالمی رائے عامہ کی توجہ کو دوسری جانب موڑنا ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲