9 مارچ 2017 - 19:05
جنوبی کشمیر میں دو مقامی جنگجو اور طالب علم سمیت دو شہر ی جانبحق

کشمیر کے پدگام پورہ اونتی پورہ علاقے میں بھارتی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونریز معرکہ آرائی میں دو مقامی جنگجو جانبحق ہوئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پدگام پورہ اونتی پورہ علاقے میں بھارتی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونریز معرکہ آرائی میں دو مقامی جنگجو، ایک نویں جماعت کے طالب علم اور ایک نوجوان جانبحق ہوئے ہیں۔ ادھر جھڑپ کے پیش نظر بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس معطل کردی گئی ہے ۔مقامی لوگوں نے ابنا کو بتایا کہ رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں اور فوج و ٹاسک فورس اہلکاروں کی طرف سے جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں دور دور تک گولیوں کی گن گرج اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ اس دوران جھڑپ میں پہلے مارے گئے جنگجو کمانڈر نگیر احمدگنائی کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں لوگ بالخصوص، للہار، کاکہ پورہ ، گوری پورہ ، ملنگ پورہ ور پدگام پورہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے زوردار احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔جھڑپ کے دوران علاقے کے محاصرے پر مامور فورسز اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑ پیں ہو ئیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے جھڑ پ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس اور فورسز نے انہیں روکا جس پر طرفین کے درمیان پتھرائو اور جوابی پتھرائوشروع ہوا۔ اس دوران علاقوں سے آ ئے لوگوں نے گائوں میں گھسنے کی کوشش کرنے لگے۔پولیس اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اندھا دھند طریقے سے شلنگ کی اور جب مظاہرین منتشر نہیں ہوئے تو گولیاں برسائیںگئیں جسکے نتیجے میں چھ مظاہرین زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ان میں دونوجوانوں کو گولیاں لگیں تھیں لیکن بعد میں مقامی پرا ئمر ی ہیلتھ سنٹر میں16سالہ عا مرنذیر وانی ولد نذ یر احمد وانی ساکن بیگم پورہ کاکہ پورہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا جبکہ گولی کے شکار مزید ایک نوجوان عادل احمد ڈار جس کی ٹانگ پر گولی لگی ہے کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر منتقل کیا گیا ہے ۔ عا مرنذیر غوثیہ انسٹیچوٹ میں نویں جماعت میںزیر تعلیم تھا۔ طالب اور جنگجو کی ہلاکت کے بعد طرفین کے مابین جھڑپوں نے مزید شدت اختیار کی اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شیلنگ کی اور ہوا میں گولیوں کے درجنوں رائونڈ فائر کئے جس کے نتیجے میں پد گام اور اسکے مضافات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ادریں اثناء عامر نذیر سمیت دونوں جنگجوئوںکی لا شیں انکے آبائی علاقوں میں ہزاروں لوگوں نے جلوس کی صورت میں پہنچا ئی گئیںجہاں انکی نماز جنازہ ادا کی گئیںاس موقعہ میں بڑے پیمانے پر مر دو زن گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ بعد میں زخمیوںمیں سے جلال الدین ساکن ٹہاب پلوامہ نامی ایک اور 20 سا لہ نوجوان بھی زخموںکی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ ڈاکٹروں کے مطابق معلوم ہو اہے کہ جلال الدین احمد اس نوجوان کے جسم پر کوئی زخم نہیں لگا تھا اور ایسا کہا جا رہا تھا کہ شا ید وہ دم  گھٹنے کے بعد جابحق ہواہے ۔ چوتھویں ہلاکت کے بعدپدگام پورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں صورتحال مزیدکشیدہ بنی اور احتجاجی مظاہرین و سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کو روکنے کے لئے پورے ضلع پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ اننت نا گ کے مختلف علاقوں میں ہڑتا ل کی گئی ۔ انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر وسطی کشمیر کے بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس معطل کردی ہے ۔  آزادی پسند قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں پلوامہ میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں کمسن طالب علم عامر نذیر کی ہلاکت پر اپنے گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاکتوں کے اس سلسلے کے خلاف 10مارچ جمعہ کو مکمل ہڑتال اور نماز جمعہ کے بعد پُرزور احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔

ساجد رسول// سرینگر کشمیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲