20 فروری 2017 - 19:56
اسرائیل شام میں بدامنی پھیلا کر جولان پہاریوں پر قبضہ جمانا چاہتا ہے: امریکی سیاسی تجزیہ نگار

انہوں نے کہاکہ اسرائیل شام میں پھیلی بدامنی ،شورش اورتشدد اس لئے برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ وہ شام کو تقسیم جو کہ اسکے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے کرکے جولان پہاڑیوں پراپناباقاعدہ تسلط جمانا چاہتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی سیاسی تجزیہ نگار اورویٹرنز ٹوڈے کے مدیر ’’جم ڈبلیو ڈین ‘‘نے پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ تل ابیب حکومت اپنے شوم منصوبے کو عملانے کیلئے شام میں امن وسکون کا خواہاں نہیں ہے اوروہ جولان پہاڑیوں پر قبضہ جمانے کیلئے شامی بحران کو مزید طولانی کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل شام میں پھیلی بدامنی ،شورش اورتشدد اس لئے برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ وہ شام کو تقسیم  جو کہ اسکے  ایجنڈے کا ایک حصہ ہے کرکے جولان پہاڑیوں پراپناباقاعدہ تسلط جمانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل شامی امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔

انہوں نے اسرائیلی کنیسٹ رکن پارلیمنٹ اکرم حسون کہ جس نے اپنے فیس بک پوسٹ پر اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے تل ابیب حکومت کی شام میں برسرپیکار النصرہ فرنٹ  کے تکفیری دہشتگردوں کو طبی اورانتظامی حمایت فراہم کرنے پر مذمت کی تھی  کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کی صیہونی رژیم اپنے ناجائز منصوبوں کو عمل جامہ پہنانے کی خاطر ان دہشتگرد گروہوں  کی مدد کررہی ہے۔

موصوف تجزیہ نگار نے دوحہ اورریاض حکومتوں کہ جوشام میں اپنے مفادات محفوظ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب اورقطر شامی حکومت  وعوام کے خلاف  دہشتگردوں کے ذریعے انجام پانے والے انسانیت سوزجرائم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی  برادری کی یہ متفق رائے ہےکہ دہشتگردوں کو اپنے ناجائز منصوبوں کیلئے پیادے کے طورپر استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہے اس لئے جو حکومتیں اپنے ناجائز منصوبوں کو پورا کرنے کیلئے شام کو غیر مستحکم  کرنا چاہتی ہیں ان کے خلاف  بروقت کاروائی کرنی چاہئے۔

ویٹرنز ٹوڈے کے مدیر نے شام کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی مستورا کہ جنہوں نے جنگ زدہ عرب ملک میں دہشتگردوں کے خلا ف نام نہاد امریکی فوجی مشغولیت کے کردار پر سوال اُٹھایا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ جیسے نام نہاد ادارے کہ جس پر امریکہ سمیت تمام استکباری طاقتوں کا قبضہ ہے کے ایک سفارتکار کیلئے ایسی بیان بازی ٹھیک نہیں ہے لیکن دوسری طرف اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں موندی جاسکتی ہیں کہ قزاکستان کے دارالحکومت آستانہ میں شامی امن مذاکرات کا حالیہ دور کامیاب رہاہے کیونکہ ان  مذاکرات میں امریکہ ملوث نہیں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲