29 جنوری 2017 - 19:57
حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہے: علامہ راجہ ناصر جعفری

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایساملک بن چکا ہے جس کی دیواریں نہیں، جوچاہتا ہے گھس آتا ہے اور دوسرے ممالک کیلئے یہاں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلام آباد( )حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہے، جمہوری اقدار کو فراموش کر دیا گیاہے، فوجی عدالتیں سپیڈی ٹرائل کیلئے بنائی گئیں لیکن وہ نتائج نہیں دے سکیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے سیکرٹریٹ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے سربراہ علامہ مبارک موسوی، لاہور کے سیکرٹری جنرل علامہ حسن رضا ہمدانی،علامہ مختار امامی، علامہ محمد اقبال کامرانی، علامہ نیاز بخاری، رانا ماجد سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں بھی دہشتگردوں کے سہولت کار موجود ہیں جو کارروائی نہیں ہونے دیتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایساملک بن چکا ہے جس کی دیواریں نہیں، جوچاہتا ہے گھس آتا ہے اور دوسرے ممالک کیلئے یہاں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ انسان کی طرح وطن کی بھی ناموس ہوتی ہے، ملک کے دشمن، عوام کے بھی دشمن ہوتے ہیں لیکن یہاں ملک کے دشمنوں کو گھربلایا جاتا ہے، مودی بنگلہ دیش میں کھڑے ہوکر تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان توڑنے میں اس کا کردار تھالیکن نوازشریف اسے گلے لگاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ملک سے دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، لیکن یہ پارا چنار میں پھر دھماکہ ہو گیا، معصوم بچے بھی نشانہ بنے قبائلی علاقوں میں واحد کرم ایجنسی ہے جس کے لوگ سب سے زیادہ محب وطن ہیں، انہوں نے پاکستان کے جھنڈے لگا رکھے ہیں، لیکن ان کا جیناحرام کر رکھا ہے، پولیٹکل انتظامیہ بھی انہیں ریاستی تشدد کا نشانہ بنارہی ہے اور دہشت گردبھی انہی پر حملے کررہے ہیں۔ راستے میں درجنوں چیک پوسٹیں ہیں پھر بھی دہشت گردوہاں پہنچ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ناکام ہو چکا ہے، ملک میں دہشتگردوں کیلئے کوئی روک ٹوک نہیں، وہ سرعام دندناتے پھر رہے ہیں، ان کے سلیپنگ سیلزہیں ، ان کے سہولت کار حکومتی صفوں میں ہیں ا سی لئے ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں دہشت گردوں کے سپیڈی ٹرائل کیلئے بنائی گئی تھیں لیکن افسوس، ا ن عدالتوں نے بھی خاطرخواہ نتائج نہیں دیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲