اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی سیاسی تجزیہ نگار ومشرق وسطیٰ امور کے ماہر ’’اسٹیفن لینڈ مین‘‘نے ایرانی میڈیا کے ساتھ انٹرویو میں کہاکہ دہشتگردی کے خلاف ایران ،روس اور شام کا اتحاد مشرق وسطیٰ علاقے میں امریکی سامراجی مفادات کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں مزید شکستوں کا سامنا کرنا پڑےگا۔
انہوں نے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح شام میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اوبامہ ایک جارح صدر ہیں اورمجھے اُمید ہےکہ ڈونالڈ ٹرمپ جنگ کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیکر دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں روس کےساتھ تعاون کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ میں صیہونی نواز خفیہ طاقتیں ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکہ کی گندی خارجہ پالیسی کو جاری رکھنے کیلئے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ وائٹ ہاوس میں داخل ہونے سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی کی پیشنگوئی کرنا قبل ازوقت ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ امریکی سامراجی پالیسی کو ترک کرتے ہیں پھر ان کی صدارت تاریخی ثابت ہوگی۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ علاقے بالخصوص شام میں جاری تنازعے اورلاکھوں شامیوں کے بے گھر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ شام سمیت تمام امریکی سامراجی جنگوں میں یورپی یونین برابر کی شریک ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ علاقے میں روس اورایران کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہاکہ ماسکو وتہران اور حکومت شام جنگ بندی معاہدے کی کامیابی اوراس ملک میں تنازعے کے خاتمے کے بارے میں پرعزم ہیں تاہم اردغان کو اس حوالے سے ابھی بہت کچھ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ دہشتگردوں کی حمایت کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شام میں جاری تنازعے کے خاتمے کی پیشنگوئی کرنا قبل ازوقت ہے اوریہ واضح ہےکہ ا مریکہ اوراسکے اتحادیوں کو زبر دست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے کہاکہ امریکی صد ربارک اوبامہ ایک ناکام و بدنام صدر کے طورپر اقتدار سے سبکدوش ہورہے ہیں۔
واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اوردہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲