اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کی جانب سے امام خمینی رح کے حکم پر لبیک کہتے ھوئے ۱۲ ربع الاول سے ۱۷ ربیع الاول تک ھفتہ وحدت منایا گیا اس سلسلے میں سندھ بھر میں ھفتہ وحدت مناتے ھوئے، ا۲ ربیع الاول کو اھل سنت کی جانب سے نکالی گئی رلیز کے روٹس پر استقبالیہ کئمپس لگایا گیا۔ جس میں پھولوں سے رلیز کا استقبال کیا گیا اور مشروب کی سبلیں لگائی گئیں، تفصیلات کے مطابق نصرپور، میرپورخاص، ھالا، بھٹ شاھ، سکرنڈ، نوابشاھ، مورو، کنڈیارو، رانی پور، بوزدار وڈا، سکھر، جیکب آباد ، لاڑکانہ، کے این شاھ، مھیڑ، دادو، سمیت مختلف چھوٹے بڑے شھروں میں اھل سنت کی رلیز کا استقبال اور ان کے جلوس میں شرکت کرکے اتحاد و وحدت کے نعرے لگائے گئے، اس سلسلے میں مختلف جگہ پر اھل سنت کے علما کرام نے اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کی خدمتوں کو سہرا اور کہا کے ملک بھر میں اتحاد بین المسلمین کے لئے لگائے گئے کئمپس پر شیعہ علما اور تنظیمیں امام خمینی کے نظریئے اور فکر کو عملی جامہ پہنا کر عالم اسلام کو سرخرو کر رہے ہیں، اس قسم کے عمل سے امت مسلمہ کے اتحاد کا بھترین مظھر نظر آئے گا، ہفتہ وحدت'' عالم اسلام کے درمیان نعمت عظمی ہے، دشمن ہمیں توڑنے کی سازش کر رہا ہے، لیکن امام خمینی نے 12ربیع الاول سے 17ربیع الاول تک ہفتہ وحدت کا اعلان کرکے ان سازشوں کو ناکام کر دیا، ہفتہ وحدت نے مسلمانوں کی خوشیوں کو بڑھا دیا ہے، آج دنیا بھر کے مسلمانوں کو امام خمینی رہ جیسے لیڈر کی ضرورت ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں شیعہ سنی کا کوئی اختلاف نہیں، چند تکفیری عناصر پوری دنیا میں تشدد، فرقہ واریت اور تکفیریت کو فروغ دے رہے ہیں۔
۱۷ربیع الاول پر سندھ کے مختلف شھروں میں تنظیم کی جانب سے جشن میلاد کے اجتماع منعقد کئے گئے جس میں مختلف شیعہ علما کرام اور تنظیم کے ذمہداران نے خطاب کرکے اتحاد کی اھمیت پر زور دیا۔
اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے چیئرمین سید حسین موسوی نے عید میلاد البنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یوم ولادت کے موقعہ پر امت مسلمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن مسلمانوں کا اپنے نبی کریم (ص) سے عشق کے عملی اظہار کا دن ہے۔ امت مسلمہ کی تنزلی کا سب سے بڑا سبب رحمت اللعالمین(ص) کی حقیقی تعلیمات سے دوری ہے۔ حضور نبی کریم (ص) نے امت کو اخوت، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔آج اسلام کے نام پر جو گلے کاٹے جا رہے ہیں وہ دین اسلام کے روشن چہرے کو بدنما ظاہر کرنے کی مذموم کوشش ہے۔جس کے پس پردہ صیہونی نصرانی ایجنڈا کارفرما ہے۔اس سازش کو باہمی اتحاد و یگانگت سے شکست دینا ہو گی۔ علما کی اعلی بصیرت اور دانش مندانہ اقدامات سے عدم برداشت کے رجحان کا خاتمہ کر کے معاشرے میں امن و سکون قائم کیا جا سکتا ہے۔ آج کا دن تجدید عہد کا دن ہے ۔نبی کریم (ص) کی حقیقی تعلیمات کا فروغ اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا آج ہمیں عہد کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ دین اسلام جبر و بربریت سے نہیں بلکہ اسوہ حسنہ سے پھیلا ہے۔دنیا کے دیگر مذاہب حضور کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ کو بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے اسلام کے نظام عدل و مساوات اور باہمی احترام پر عمل پیرا ہیں۔حضور کریم (ص) کی ذات مبارکہ سے محبت کے زبانی اقرار کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمات کو عملی زندگیوں میں نافذ کرنے سے دشمناناں اسلام کی کوششوں کا ناکامی سے دوچار کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان 12 تا 17ربیع الاول تک ہفتہ وحدت منا رہی ہے۔ اصغریہ علم و عمل تحریک کے مرکزی صدر سابت علی نے کہا کہ اس وقت استعماری اور سامراجی دشمنان اسلام قوتیں امت مسلمہ کو کچلنے اور ٹکڑے کرنے میں شب و روز مصروف ھیں اور آئے روز نئی سازشیں ہو رہی ہیں تاکہ مسلمان کمزور ہو جب تک تمام امت ان کے مقابلے میں متحد نہ ہوگی یہ قوتیں عالم اسلام کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے اسلام کے اس مقدس چہرے کو داغدار کرنے کے لئے مسلمانوں میں دہشت گرد گروہ بنا کر مسلمانوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں زندہ جلایا جا رہا ہے، وحشت و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے تو ضروری ہے کہ امت اور اسلام کے خلاف اندرونی و بیرونی سازشوں کے مقابلے کے لئے تمام امت سر جوڑ کر بیٹھے اپنی صفوں میں اختلافات ختم کرے اصل دشمنوں کو پہچانے تاکہ امت مضبوط ھو،وقت کا تقاضہ ہے کہ عالم اسلام متحد ہو کیونکہ تکفیری طاقتوں اور استعماری گماشتوں کا مقابلہ صرف عالم اسلام کی وحدت سے کیا جاسکتا ہے۔ ہم اگر متحد ہو کر بصیرت اور دشمن شناسی اور اپناتے ہوئے اپنے مشترکہ دشمن کو شناخت کریں، جو عالم اسلام اور پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پس ہم صرف وحدت سے اپنے دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور انکے ناپاک ارادوں کو بھی ناکام و نامراد کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ رسول خدا کی ذات نقظہ وحدت اور نقطہ اشتراک ہے، انکی ذات کسی خاص مکتب، مسلک، قوم اور نسل کیلئے نہیں بلکہ عالم بشریت کیلئے باعث رحمت و ہدایت ہے۔












۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲