اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کیمبرج یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے ایک پروفیسر نے ہیلری کلنٹن اور امریکی نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو عقابی عزائم کے حامل انسان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ’’یاسر سلیمان‘‘ نے آر ٹی کے ساتھ انٹرویو میں امریکی نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بیانات کہ وہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی اسرائیل کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرینگے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کیلئے ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ ایک جیسے ہیں کیونکہ یہ دونوں عقابی عزائم کے حامل انسان فلسطینی عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت میں فلسطینی عوام کے مصائب میں کوئی تفاوت ممکن نہیں ہے کیونکہ امریکہ کی پالیسی عرصہ دراز سے ایک ہی سمت میں جارہی ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے تئیں امریکی حکام کی اندھی محبت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ بھی اسرائیل پالیسی کو تبدیل نہیں کرسکتی ہے کیونکہ جب اوباما اقتدار میں آگئے تو بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ وہ پالیسیوں کو تبدیل کرینگے لیکن وہ ایسا نہ کرسکے کیونکہ امریکی سیاستدانوں نے ملک کی پالیسیوں کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے یرغما ل بنایا ہے۔
انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ وہ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم تبدیل کردینگے اور مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیوں پر اعتراض نہیں کرینگے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے لگ بھگ سبھی امیدوار جنگی جنون کے حامل اور دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے والے ہیں۔
موسوف پروفیسر نے باراک اوباما کی انتظامیہ کی اسرائیل کے تئیں شاہانہ حمایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اوباما زبانی طور پر مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی مذمت کرتے ہیں لیکن دوسری طرف اس نے اسرائیل کی صیہونی رژیم کو 38 بلین مالیت کے ہتھیار جو کہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی پیکیج ہے فراہم کر کے یہ ثابت کردیا کہ وہ فلسطینی عوام کے مصائب پر صرف مگرمچھ کے آنسوں بہانے میں ماہر ہے۔
اسلامی اسٹڈیز کے پروفیسر نے برطانوی حکومت کہ جس نے 1917ء میں اسرائیل کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کیا ہے کے بالفور اعلان کی معذرت خواہی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معافی مانگنے کے بجائے اپنی غلطی کو تسلیم کر کے فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے اقدامات کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲