23 نومبر 2016 - 14:43
وائٹ ہاوس: ایٹمی معاہدے کو کمزور کرنے والے کسی بھی اقدام کے حق میں نہیں ہیں

وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر باراک اوباما ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو کمزور کرنے والے کسی بھی اقدام کے حق میں نہیں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر باراک اوباما ایسے کسی بھی بل کی توثیق نہیں کریں گے جو ایران کے ساتھ جامع ایٹمی معاہدے کو کمزور کرنے کا باعث بنے۔

جاش ارنسٹ نے واضح کیا کہ امریکہ کی موجودہ حکومت بیس جنوری دوہزار سترہ تک یعنی جب صدر باراک اوباما وائٹ کو ترک کریں گے، ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کرتی رہے گی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنے تمام وعدوں کی پابندی کر رہا ہے۔
وائٹ ہاوس کے ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ، اب یہ امریکہ کی نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے کیا راستہ اپناتی ہے، کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کو نکالنے یا اس کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ ایران کو مسافر بردار طیاروں کی فروخت کی اجازت دینا، جامع ایٹمی معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے لیے مسافر بردار طیاروں کی فروخت کی غرض سے ایئر بس کمپنی کو نیا لائسنس جاری کر دیا گیا ہے اور یہ اقدام ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کے تحت کیے گئے امریکی وعدوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

ادھر ایک باخبر ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز فرانس کی ایئر بس کمپنی کو ایک سو چھے مسافر بردار طیارے ایران کی قومی ایئرلائن کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
درایں اثنا، امریکی ایوان نمائندگان کے ری پبلکن سربراہ پال رایان نے منگل کے روز صدر باراک اوباما کے نام ایک خط میں درخواست کی ہے کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہ کریں جس سے ایران کے حوالے سے آئندہ آنے والے امریکی صدر کے اختیارات محدود ہو جائیں اور ایران کے خلاف پابندیوں کا ڈھانچہ کمزور پڑ جائے۔
پال رایان نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر باراک اوباما ایران کے خلاف پابندیوں میں دس سال کی توسیع کے بل پر دستخط کر دیں گے۔ انہوں نے صدر اوباما سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ ایران میں عالمی سرمایہ کاری کی تقویت کے حوالے سے بھی کوئی قدم اٹھانے سے گریز کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169