22 اکتوبر 2016 - 20:01
سعودی حکومت تکبر کی وجہ سے یمن کے دلدل میں پھنسی: امریکی تجزیہ نگار

یمن کی جنگ کی وجہ آل سعود کا تکبر ہے۔ عبد العزیز آل سعود جو سعودیہ کا بادشاہ تھا ۱۹۵۳ میں اس نے مرنے سے پہلے حکمران خاندان آل سعود کو نصیحت کی تھی کہ یمن کو متحد نہ ہونے دینا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی ٹی وی"العالم" کے مطابق ایک امریکی مجلہ فارین پالیسی نے  ایک رپورٹ میں لکھا ہے:امریکی کیوں یمن کے حالات پر توجہ کریں ؟ ایک معمولی امریکی شہری یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ ملک نقشے پر سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع ہے ، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ یہ ملک کہاں ہے ، اس لیے کہ یمن کی جنگ سعودی عرب کے اس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کہ جو امریکہ کا مضبوط اور بعض مواقع پر درد سر پیدا کرنے والا حلیف ہے ، امریکی شہریوں سے مربوط ہونے والی ہے ۔ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ امریکیوں کو اس دائمی جنگ میں کہ جس کو وہ مستقبل قریب میں ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا شرکت کرنے پر قائل کر لے ۔

اس رپورٹ میں آیا ہے : یمن کی جنگ کی وجہ آل سعود کا تکبر ہے۔ عبد العزیز آل سعود جو سعودیہ کا بادشاہ تھا ۱۹۵۳ میں اس نے مرنے سے پہلے حکمران خاندان آل سعود کو نصیحت کی تھی کہ یمن کو متحد نہ ہونے دینا ، لہذا یمن وہی مشکل ہے جو اس کے ٹکڑے ہونے کے بعد حل ہو گی ۔

اس مجلے کی تحریر کے مطابق یمن میں آل سعود کے تکبر کا جنون ایک لمبے عرصے سے اس کی سیاست کی بنیاد شمار ہوتا ہے ۔

فارین پالیسی نے امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ  یمن کی جنگ میں تعاون کی طرف اشارہ کرتے تصریح  کی ہے : ریاض نے یمن کی جنگ میں امریکہ کی حمایت کا مطالبہ کیا تھا تا کہ یمن کے فراری صدر عبد ربہ منصور ہادی کو اقتدار واپس دلا سکے ۔ یمن کے خلاف جنگ کے آغاز کے زمانے سے امریکی فوجیں یمن میں عدن کے شمال میں ہوائی مرکز العند میں کاروائی میں مشغول ہیں ، اور امریکہ جیبوتی کی سرزمین سے کاروائی کرتا ہے اور امریکی ڈرون بھی یمن کو نشانہ بناتے ہیں ، اور اس وقت دسیوں ہزارامریکی فوجی یمن میں موجود ہیں ۔

فارین پالیسی کی تحریر کے مطابق اس چیز کے پیش نظر کہ سعودی عرب کی ہوائی فوجیں اور امریکہ کی ہوائی فوج یمن کے آسمان میں اور اس ملک میں جنگ کے میدان میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں ، اور اس تعاون کا تقاضا ہے کہ  ایک دوسرے کے طرز سلوک کے بارے میں سہل انگاری سے کام لیں، لیکن یہ سہل انگاری اس وقت یمن میں آل سعود کی طرف سے  سویلین پر جرائم   کے پیش نظر دباو میں ہے ۔ حتی ۱۷  مہر ماہ سے پہلے کہ جب سعودی طیاروں نے عزاداری  کے ایک پروگرام پر حملہ کیا تھا اور ۱۴۰ سے زیادہ افراد کو شہید کیا تھا اور سینکڑوں افراد کو زخمی کیا تھا ، امریکہ کو سعودی عرب کی مہارت کے بارے میں پریشانی تھی اور اس کا مطلب دونوں میں تعاون کی سطح کا کم ہونا ہے ۔       

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲