اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق غلام علی خوشرو نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے عام اجلاس میں مشرق وسطی خاص طور پر فلسطین کے مسائل کے بارے میں کہا کہ لیبیا، شام اور یمن کے بحرانوں جیسے بحران مشرق وسطی میں غیرملکی مداخلت اور قبضے اور جارحیت کی پالیسی کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
غلام علی خوشرو نے مشرق وسطی میں انجام دیے جانے والے جرائم اور مظالم سے عالمی برادری کی لاتعلقی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل بدستورعلاقے کے ملکوں میں بےگناہ کو قتل ہوتا دیکھ رہی ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج فلسطین کی صورت حال کو بین الاقوامی توجہ اور فوری اقدام کی ضرورت ہے، مزید کہا کہ صیہونی حکومت گھروں کو مسمار، عام شہریوں کو جبری طور پر اپنے علاقوں سے باہر نکال کر اور قتل و تشدد کو جاری رکھنے سمیت فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کر کے جان بوجھ کر علاقے میں عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہے۔
انھوں نے یمن کے خلاف سعودی عرب کے حملوں کے جاری رہنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ اکتوبر کو صنعا میں عزاداری کی ایک مجلس پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کا حملہ یمن میں غیرفوجی اہداف پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ہزاروں حملوں میں سے صرف ایک نمونہ ہے کہ جن میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں بےگناہ شہری شھید، زخمی اور معذور ہو چکے ہیں اور ان حملوں نے اس ملک کی اسی فیصد سے زائد بنیادی تنصیبات کو تباہ کر کے اسے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے غلام علی خوشرو نے عالمی برادری کی لاتعلقی اور غیرملکی مداخلت کو مشرق وسطی کے علاقے کے بحرانوں میں شدت آنے کا اہم ترین سبب قرار دیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق غلام علی خوشرو نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے عام اجلاس میں مشرق وسطی خاص طور پر فلسطین کے مسائل کے بارے میں کہا کہ لیبیا، شام اور یمن کے بحرانوں جیسے بحران مشرق وسطی میں غیرملکی مداخلت اور قبضے اور جارحیت کی پالیسی کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
غلام علی خوشرو نے مشرق وسطی میں انجام دیے جانے والے جرائم اور مظالم سے عالمی برادری کی لاتعلقی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل بدستورعلاقے کے ملکوں میں بےگناہ کو قتل ہوتا دیکھ رہی ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج فلسطین کی صورت حال کو بین الاقوامی توجہ اور فوری اقدام کی ضرورت ہے، مزید کہا کہ صیہونی حکومت گھروں کو مسمار، عام شہریوں کو جبری طور پر اپنے علاقوں سے باہر نکال کر اور قتل و تشدد کو جاری رکھنے سمیت فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کر کے جان بوجھ کر علاقے میں عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہے۔
انھوں نے یمن کے خلاف سعودی عرب کے حملوں کے جاری رہنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ اکتوبر کو صنعا میں عزاداری کی ایک مجلس پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کا حملہ یمن میں غیرفوجی اہداف پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ہزاروں حملوں میں سے صرف ایک نمونہ ہے کہ جن میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں بےگناہ شہری شھید، زخمی اور معذور ہو چکے ہیں اور ان حملوں نے اس ملک کی اسی فیصد سے زائد بنیادی تنصیبات کو تباہ کر کے اسے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲