اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے خلیج فارس تعاون کونسل اور ترکی کے مشترکہ اجلاس کے اعلامئے کے جواب میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام ، یمن، بحرین، عراق اور لیبیا میں بحران اور افسوسناک صورتحال کی وجہ ریاض میں ہونے والے اجلاس میں موجود بیشتر ملکوں کی مداخلت کا نتیجہ ہے اور اب یہی ممالک اپنی شکست خوردہ پالیسیوں کی تلافی کے لئے دوسروں پر بے بنیاد الزام عائد کر رہے ہیں - اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو ایک بیان میں ریاض میں خلیج فارس تعاون کونسل اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اجلاس کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ ایران ان ملکوں میں پیش پیش رہا ہے جنھوں نے مشرق وسطی کو عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے حق میں آواز بلند کی اور اگر مذکورہ ممالک دوستانہ رویّہ اختیار کریں اور صداقت کا مظاہرہ کریں تو ایران اس مقصد کے حصول کے لئے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کے لئے تیارہے - ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک نے علاقے اور اپنے ہمسایہ ملکوں میں بدامنی ، جنگ اور دہشت گردی کو ہوا دی ہے اور اپنے پڑوسیوں کے اقتدار اعلی خلاف کی ورزی کی ہے وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ دوسروں کو علاقے کے داخلی معاملات میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرائیں اور مداخلت نہ کرنے کی نصیحت کریں - ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام کے شمالی شہر حلب کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کوششوں کے خلاف خلیج فارس تعاون کونسل اور ترکی کا ردعمل ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہشت گرد گروہوں کے انسانیت سوز جرائم نے شام کے مختلف شہروں منجملہ حلب کے باشندوں کے لئے انتہائی سخت اور افسوسناک حالات پیدا کردیئے ہیں اور حلب سمیت مختلف شہروں کا محاصرہ کرکے شام کے باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے - اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہےکہ حلب میں نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کو روکنے کی کوشش ایک ایسی حقیقت ہے جس پر بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر توجہ دینی چاہئے - ایران کی وزارت خارجہ نے ایران کے تین جزیروں کے بارے میں اجلاس میں شریک بیشتر ملکوں کے بے بنیاد دعوے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا دعوی دیگر ملکوں کے معاملات میں مداخلت کا کھلا ثبوت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲