اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں یوم عاشورا کے موقعہ پر وادی کے اطراف و اکناف میں انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے جلوس ذوالجناح شریف برآمد کئے گئے جن میں لاکھوں عزاداروں نے شرکت کرکے نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ اور ان کے جان نثار انصار و اقارب کی عظیم قربانیوں کو عقیدت کا خراج نظر کیا۔
ریاستی سطح کا سب سے بڑا جلوس عاشورا انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں امام باڑہ میر گنڈ بڈگام سے برآمد ہوکر مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوا۔جبکہ دوسرا بڑا جلوس عاشورا امام باڑہ گلشن باغ سرینگر سے برآمد کیا گیا جو خانقاہ میر شمس الدین اراکیؒ جڈی بل سرینگر میں اختتام پذیر ہوا۔
عزاداروں نے نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کے ساتھ ساتھ کشمیر میں جاری بھارتی فورسز کی جبروبربریت کے خلاف اور آزادی کے حق میں زوردار نعرے بازی کی۔
بہشت زہراؑ پارک میں نماز ظہرین کی پیشوائی کے موقعہ پر دسیوں ہزار عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے آغا صاحب نے معرکہ کربلا کے کئی گوشوں کی وضاحت کی۔
آغا صاحب نے کہا کہ معرکہ کربلا ظلم و طاقت اور استکباریت کے خلاف کردار و بے کسی اور بے سرو سامانی کی جنگ تھی جہاں مسلط قوت نے حق پرستوں سے سیاسی بیعت لینے کیلئے طاقت و تشدد کے انسانیت سوز حربے استعمال کئے لیکن حق پرستوں کی استقامت نے باطل کے عزائم کو خاک میں ملایا۔ امام حسینؑ کی عظیم شہادت دنیا کی ہر بے بس اور مظلوم قوم کیلئے راہ نجات ہے۔
کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال اور ہمہ گیر احتجاجی تحریک کو تحریک کشمیر کا ایک اور سنگ میل قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ آج کشمیری قوم من و عن کربلائی صورتحال سے دوچار ہے۔ بھارت ہماری برحق اور باجواز تحریک کو کچلنے کیلئے طاقت اور جبروبربریت کا بدترین مظاہرہ کررہا ہے۔
تین ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران شہید کئے گئے ایک سو قریب نہتے احتجاجیوں کو شاندار خراج عقیدت اور کشمیری عوام کے صبرو استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ موجودہ احتجاجی تحریک نے تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے 25سالہ گمراہ کن پروپگنڈے کا بھانڈا پھوڑ کے رکھ دیا ۔
بھارت 25سال سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو سرحد پار دہشت گردی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی پالیسی پر گامزن رہا اور عالمی برادری کافی حد تک بھارت کے منفی پروپگنڈے سے متاثر دکھائی دے رہی تھی۔
موجودہ احتجاجی تحریک کی بدولت دنیا تنازعہ کشمیر کی حقیقت، ریاست کی حقیقی صورتحال اور کشمیری عوام کے جذبات و خواہشات سے پوری طرح واقف ہوگئی بلکہ موجودہ تحریک کی وجہ سے ہی تنازعہ کشمیر سے متعلق پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایک نئی جہت مل گئی۔
اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کی روشنی میں کشمیری مظلوم عوام کے درد و کرب اور بھارت جبروبربریت کے سد باب کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور اس ساری انسانیت سوز صورتحال کے اصل محرک تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے دونوں ملکوں پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲