اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق کرغیزستان کے دورے کے موقع پر ایک انٹرویو میں صدر ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ روس اور شام کی حکومتیں ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے جنگ بندی سمجھوتے کے مندرجات پر پوری طرح سے عمل کر رہی ہیں۔روس نے یہ بات زور دیکر کہی کہ شام مخالف مسلح گروہ جنگ بندی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو منظم کر رہے ہیں اور اس حوالے سے امریکی پالیسیاں شفاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر بشار اسد کی حکومت جنگ بندی کی مکمل پابندی کر رہی ہے اور روس بھی اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کے مسلح مخالفین جنگ بندی کے دوران بھی چین سے نہیں بیٹھے ہیں۔ صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ دہشت گرد گروہ جنگ بندی سے ناجائز فائدہ اٹھاکر خود کو پھر سے منظم کر رہے ہیں اور نام بدل کر اپنی اصل ماہیت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ مسلح مخالفین اور دہشت گردوں کے درمیان فرق کے معاملے میں پس وپیش سے کام لے رہا ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ صدر اسد کی قانونی حکومت کے خلاف جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے جو انتہائی خطرناک راستہ ہے۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے بارے میں اپنی پالیسیوں میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرے۔
.......
/169