اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آل سعود نے سعود عرب میں شیعوں پر تشدد جاری رکھتے ہوئے اس بار صوبہ الاحساء کے امام جمعہ آیت اللہ حسین الراضی کو گرفتار کر لیا۔
سعودی حکومت کے ذریعے آیت اللہ الراضی کی گرفتاری کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے سعودی عرب کے ایک اخبار میں اس ملک کی حکومت کی جانب سے دئے گئے سزائے موت کے تازہ حکم کی مذمت کی۔
آیت اللہ الراضی نے آل سعود کی حکومت کو یمن پر جاری جارحیت کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دھشتگردوں کی حامی حکومت حزب اللہ کو دھشتگرد کہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
اس سے پہلے بھی سعودی حکومت نے اس عالم دین کو حکومت کے خلاف زبان کھولنے پر گرفتار کیا تھا۔
آیت اللہ الراضی نے شیخ نمر کو سزائے موت دئے جانے پر بھی شدید رد عمل ظاہر کیا تھا اور اس بات پر تاکید کی کہ سعودی حکومت اپنے مخالفین کو یا سزائے موت کے ذریعے مٹانا چاہتی ہے یا جیلوں میں بند کر کے ان کی زبانیں بند کرنا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ ماہ یہ اعلان کیا کہ وہ حکومت، سعودی عرب میں سیاسی سرگرمیاں رکھنے والے مزید تین جوانوں ’’علی النمر‘‘ ’’ عبد اللہ زاہری‘‘ اور ’’داود مرہون‘‘ کو پھانسی دے گی۔
سعودی حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد اس ملک کے انسانی حقوق ادارے سمیت عالمی اداروں کی جانب سے آل سعود حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲