20 مارچ 2016 - 10:57
ادلے کا بدلہ

دنیا مکافات عمل کا نام ہے پاکستانی حکمرانوں نے امریکی ایماء پر افغانستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا تھا جس کا خمیازہ ملت پاکستان آج تک بھگت رہی ہے۔ اب ترک صدر نے بھی ضیائی غلطی کو دہراتے ہوئے شام و عراق کے ساتھ وہی زیادتی کی ہے جس کا خمیازہ اب ترکی کے بے گناہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر : شاہد رضا
نظام قدرت ہے کہ انسان یا قومیں دنیا کے اندر جن گناہوں اور زیادتوں کا ارتکاب کرتی ہیں ان کا خمیازہ بھی انہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ چاہے وہ انسان کے انفرادی معاملات ہوں یا پھر اجتماعی معاملات، دونوں کے اندر انسان کو ادلے کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔ جب بھی کوئی ریاست یا ملک کسی دوسرے ملک یا ریاست کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرتا ہے اور ان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے تو اللہ تعالی حتما اس قوم کو اپنی کی جانے والی زیادتی کے عوض عذاب ضرور دیتا ہے۔ تاریخ انسانی ان جیسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جس کے اندر حکمرانوں نے اپنے آقاؤں یعنی بڑی طاقتوں کے کہنے پر کسی مظلوم یا بے بس ملک پر چڑھاوا کیا یا ان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا تو وہ حکمران دنیا کے لئے نشان عبرت بن گئے۔
اگر ہم ملک عزیز پاکستان کی بات کریں تو 1980 کی دہائی میں امریکہ و سعودی عرب کی شہ پر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے جہاد افغانستان کا نعرہ لگاتے ہوئے روس کے خلاف محاذ آرائی کی جس میں افغانستان کی قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچا اور وہاں کی عوام کے ساتھ بسا اوقات زیادتیاں بھی ہوئیں۔ جس کے لئے اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے مختلف جیلوں میں پڑے ہوئے سزائے موت کے قاتلوں کو نکالا اور انہیں جہاد افغانستان کے لئے ٹریننگ دی گئی جس کا مقصد صرف اور صرف امریکی و سعودی داد حاصل کرنا تھا۔ لیکن جب روس کا افغانستان سے انخلاء ہوگیا تو ان اجرتی قاتلوں کو پناہ دینے کے لئے ایک بار پھر پاکستانی سرزمین یعنی وزیرستان کا انتخاب کیا گیا۔ لیکن آخر سانب تو سانب ہوتا ہے بعد میں جب مشرف دور میں ان سانپوں کی دم پر پاؤں رکھا گیا تو انہوں نے پاکستانی عوام کو ڈسنا شروع کر دیا جس کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ جس میں لاکھوں بے گناہ پاکستانی لقمہ اجل بن گئے ہیں۔
لیکن ایک دفعہ پھر امریکی و سعودی حکمرانوں نے شام و عراق کی آزادی اور خود مختاری کو سلب کرنے کے لئے ضیائی مائنڈ سیٹ کا استعمال کیا ہے جس کے لئے انہوں نے ترکی کی سرزمین کو استعمال کیا ہے۔ اور ترک صدر طیب اردگان کو ضیاء الحق کی طرح بہکا کر شام و عراق کے خلاف لا کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے پوری دنیا سے اجرتی قاتلوں کو اٹھا کر کے ترکی کے ساحلوں پر ٹریننگ دی  اور پھر براستہ ترک بارڈر انہیں شام و عراق میں داخل کر دیا ۔ اب جب ان دونوں ممالک کی عوام نے اپنی افواج کا بھر پور ساتھ دیتے ہوئے ان دہشت گردوں کو شکست فاش سے دوچار کیا ہے تو اب یہ دہشت گرد واپس ترکی کے بارڈر کی طرف آتے دکھائے دے رہے ہیں۔ کیونکہ اس وقت امریکہ و عرب حکمران دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل و خوار ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں لہذا اب انہوں نے ان دہشت گردوں کی سرپرستی سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ امریکہ نے داعش و النصرہ کے خلاف فضائی آپریشن کو شروع کر کے ترکی کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ داعش جیسے گروہوں کے ذریعے شامی حکومت کا خاتمہ ناممکن ہو گیا ہے تو اب سعودیہ نے اسلامی اتحاد بنایا ہے جس کا مقصد مشرق وسطی کے اندر شامی حکومت اور ان کے مددگاروں کو کمزور کرنا ہے۔ اب جب کہ داعش اور النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے پاس کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ہے تو انہوں نے ترکی کے اندر بم دھماکے کرنا شروع کر دیے ہیں۔  کیونکہ وہ سب اجرتی قاتل ہیں اور ان کا پیشہ ہی انسانیت کا قتل کرنا ہے لہذا وہ اپنے اس روش سے بازنہیں آئیں گے۔
دوسری جو انتہائی اہم وجہ ہے وہ یہ کہ اب داعش کے دہشتگردوں کے لئے ایک وزیرستان بننا ہے کیونکہ اب انہیں رہائش اور بنیادی ضروریات زندگی دی جانی ہیں تاکہ انہیں کچھ وقت کے ٹریننگ دی جائے اور پھر کسی مناسب موقع پر کسی ملک پر چڑھائی کے لئے استعمال کیا جائے۔ امریکی و سعودی پلان یہ تھا کہ اس دفعہ وزیرستان ترک بارڈر کے قریبی شامی علاقوں میں بنایا جائے۔ جس کے دو اہم مقاصد تھے ایک تو شامی حکومت پر داعش اور النصرہ کا خطرہ ہمیشہ منڈلاتا رہے جیسے کہ پاکستان پر طالبان کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ دوسرا مقصد یہ کہ ترکی کی قومی سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ لیکن اس دفعہ یہ پلان ناکام ہو چکا ہے کیونکہ ایک طرف شامی فوج نے ان دہشت گردوں کے لئے اپنی سرزمین کو تنگ کر دیا ہے اور دوسری طرف امریکہ نے ترکی کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس وقت ترکی شام و عراق کی جنگ کے اندر پھنس چکا ہے کیونکہ پہلے دہشت گردوں کی کھیپ ترک بارڈر سے شام میں داخل ہوتی رہی اب وہ سب دہشت گرد ترکی میں واپس آ کر دہشت گردانہ کاروائیاں کر رہے ہیں۔
دوسری اقوام کو ذلیل و خوار کرنے کے دشمنوں کی ایماء پر ان کی قومی سلامتی پر ڈاکہ ڈالنے کا انجام تو یہی ہوتا ہے۔ کیونکہ دنیا مکافات عمل کا نام ہے پاکستانی حکمرانوں نے امریکی ایماء پر افغانستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا تھا جس کا خمیازہ ملت پاکستان آج تک بھگت رہی ہے۔ اب ترک صدر نے بھی ضیائی غلطی کو دہراتے ہوئے شام و عراق کے ساتھ وہی زیادتی کی ہے جس کا خمیازہ اب ترکی کے بے گناہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ کیونکہ دشمن اپنا کام مکمل ہونے کے بعد اس مائنڈ سیٹ کو تنہا چھوڑ جاتاہے۔ لہذا مسلمان ممالک کو امریکی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے اس وقت عالم اسلام کو پیش خطرات میں سے ایک اہم خطرہ داخلی اختلاف ہے۔ خدارا یہود و نصاری کے بہکاوے میں آکر ہمیں ایک دوسرے کے دست و گریبان نہیں ہونا چاہیےورنہ اسی طرح سے مسلمان ممالک آپس میں لڑتے رہیں گے جس کا فائدہ امریکہ و اسرائیل کو ہوتارہے گا۔ کیونکہ بقول علامہ اقبال دشمن اپنے مفادات کے لئے منصوبہ تیار کر چکا ہے۔
وطن کی فکر کر نادان مصیب آنے والی ہے           تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲