اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کی شام انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں علماء، دانشوروں اور اہم شخصیات سے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ دہشتگردوں کے مقابلے میں اپنی خاموشی توڑیں- انھوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے دین اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تمام مسلمانوں کی ایک ہی آواز ہونی چاہیئے اور وہ یہ، کہ وہ، قتل و تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف ہیں اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے- انھوں نے مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دین اسلام، عقل و منطق اور اعتدال پسند دین ہے اور تمام مسلمانوں پر ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پوری دنیا کو حقیقی اسلام سے روشناس کرائیں- ڈاکٹر حسن روحانی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت اہم ترین مسئلہ، اسلام کا تحفظ کرنا ہے، کہا کہ عالم اسلام میں اس وقت، دشمنوں کے آلہ کار، غفلت میں پڑے افراد اور نادانوں نے بنیادی اصول کو فراموش کردیا ہے اس لئے، اس بات کا مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ دنیائے اسلام، تفرقے سے دوچار ہے- انھوں نے مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری، لوگوں کی جان کا تحفظ قرار دیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہیئے کہ بےگناہوں کا خون بہایا جائے- صدر مملکت نے اسلام و مسلمین کی عزّت کے تحفظ کو بھی مسلمانوں کی ذمہ داریوں میں سے قرار دیا اور تاکید کی کہ عالم اسلام میں کچھ عناصر اس وقت مسلمانوں کی عزّت پامال کررہے ہیں اور انھوں نے دین و جہاد کے نام پر آںحضرت(ص) کی تعلیمات کے مقابلے میں تلوار اٹھا رکھی ہے اور وہ دنیا میں مسلمانوں کی ساکھ بگاڑ کر پیش کررہے ہیں، اس رو سے تمام مسلمانوں کا فریضہ بنتا ہے کہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کریں-صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دین اسلام، منطق و اصول کی بنیاد پر دنیا میں پھیلا ہے، کہا کہ اسلام تلوار کا دین نہیں ہے بلکہ منطق، رحمانیت، عطوفت اور پرامن بقائے باہمی کا دین ہے، جو ہرگز خود کو کسی پر مسلط نہیں کرتا-
.....
/169