22 اپریل 2015 - 04:50
چین پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا

چین کے صدر شی جین پینگ نے کہا ہے کہ چین کے عوام ہمیشہ پاکستانی عوام کے ساتھ مل کر کھڑے ہوں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران چین کے صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت کو وہ اعزاز سمجھتے ہیں جس پر وہ بے حد شکرگزار ہیں- پاکستان میں پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی بہت متاثرکن ہے جس کا شکریہ ادا کرتے ہیں- پاکستان چین کا اچھا پڑوسی، دوست اور بھائی ہے، پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اعتماد پر مبنی ہے، وہ چینی عوام کی جانب سے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا تحفہ لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی حقیقی معنوں میں سدابہار ہے، پاکستان نے ہمیشہ مدد کا ہاتھ آگے بڑھایا- شی جین پینگ نے کہا کہ انہیں وہ وقت یاد ہے جب چین دنیا میں بالکل تنہا تھا تو پاکستان نے چین کے لیے اپنے فضائی راستے کھولے- پاکستان چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنےوالا پہلا مسلم ملک تھا، جب چین قدرتی آفات میں گھرا تو پاکستان نے ہی چین کا ساتھ دیا۔ اسی طرح دو ہزار دس میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لئے چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی۔
چینی صدر شی چن پنگ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام بہت بہادر اور قابل ہیں، جنہوں نے بڑے خطرات میں اپنی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کا دفاع کیا، دہشت گردی کا خاتمہ دوطرفہ ترقی کےلیے انتہائی ضروری ہے- انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، پشاور اسکول کا واقعہ ایک عظیم سانحہ ہے- انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں معاشی ترقی اور استحکام کا خواہاں ہے، پاکستان نے معاشی ترقی کی جانب پیش قدمی کی ہے، آج ہزاروں پاکستانی چینی انجینیئرز کے ساتھ مل کر کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، پاکستان کے پاس ایشین ٹائیگر بننے کا موقع ہے، چینی عوام پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ چین کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قابل اعتماد ساتھی ہیں، دونوں ملکوں کا کئی علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں موقف یکساں ہے۔ یمن میں محصور پاکستانیوں اور چینی شہریوں کو دونوں ملکوں نے باہمی تعاون سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی مدد کو اپنی مدد سمجھتا ہے۔ ترقی اور امن پر مبنی خارجہ پالیسی ہمارا نصب العین ہے، ہم فاٹا میں ازسرنو تعمیر کے منصوبوں میں پاکستان کی پوری مدد کریں گے اس کے علاوہ گوادر پورٹ کو جدید بنانا بھی چین کا اہم منصوبہ ہے۔
اس سے قبل چین کے صدر شی چن پنگ جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پہنچے تو ارکان پارلیمنٹ اور معزز مہمانوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اجلاس سے قبل دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھن بجائی گئی۔ جس کے بعد قرآن پاک کی تلاوت سے پارلیمنٹ کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے استقبالیہ خطبے میں کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے، وہ چینی صدر کوپارلیمنٹ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، یہ کسی بھی غیرملکی سربراہ مملکت کا موجودہ پارلیمنٹ سے یہ پہلا خطاب ہے جو ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے۔ دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ چین کی سیکورٹی پاکستان کی سیکورٹی ہے دونوں ملک مل کر دہشت گردی ختم کریں گے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران چین کے صدر شی چن پنگ کے خطاب پر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چینی صدر کی آمد پران کے شکرگزار ہیں، ہمارے لئے باعث اعزاز ہیں کہ آج ایک عظیم رہنما کی میزبانی کر رہے ہیں، چینی صدر جتنے اپنے ملک میں مقبول ہیں اتنے ہی پاکستان میں ہیں، چینی عوام ہمارے دل کے بہت قریب ہے، پاکستان اور چین صحیح معنوں میں آہنی بھائی ہیں، دونوں ملکوں کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارے پہاڑ اور دریا، ذہن اور روح آپس میں جڑئے ہوئے ہیں، پاکستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کا چین کے بارے میں یکساں موقف ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چین کی سیکورٹی پاکستان کی سیکورٹی ہے، پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک چین پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا۔ امن ،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ ہدف کے لئے مل کر کام کریں گے، ہم دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے ایک ساتھ مل کر لڑیں گے، اس سلسلے میں ہمیں مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری دونوں ملکوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ، پاکستان میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے چینی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں۔

........

/169