اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حسین ذوالفقاری نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے اسلامی جمہوری ایران اور پاکستان کے آٹھویں مشترکہ سکیورٹی اجلاس کے اختتام پر مجرموں کی حوالگی کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مجرموں کی حوالگی میں مزید تیزی لائی جائے گی اور ہمیں امید ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے بعض ارکان کو کہ جنھیں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا ہے، جلد از جلد ایران کے عدالتی حکام کے حوالے کردیا جائے گا- انھوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس میں جامع بحثیں ہوئی ہیں اور آخرکار اکیس شقوں پر مشتمل باہمی تعاون کی ایک دستاویز پر دستخط ہوئے ہیں-
ڈاکٹر حسین ذوالفقاری نے کہا کہ طے پایا ہے کہ ایران اور پاکستان کے، نچلے درجے کے سرحدی محافظ ہر مہینے، دونوں ملکوں کے پہلے درجے کے سرحدی محافظ ہر تین مہینے میں اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے سرحدی کمانڈر ہر چھ مہینے میں ایک بار ملاقات کریں گے اور سرحدی مسائل کے بارے میں مشترکہ طور پر معلومات کا تبادلہ کریں گے- انھوں نے مزید کہا یہ بھی طے پایا ہے کہ ضروری مواقع پر معلومات کا تبادلہ جلد از جلد کیا جائے گا تاکہ دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدام کیا جا سکے- انھوں نے دو ہزار آٹھ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے سرحدی محافظوں کے بارے میں کہا کہ آئندہ مہینے پاکستان کے تعاون سے ان چودہ سرحدی محافظین کی شناخت کے بعد ان کی ایران منتقلی کا کام انجام پانے کا امکان ہے- ایران اور پاکستان کا آٹھواں مشترکہ سکیورٹی اجلاس جمعرات کے روز اسلام آباد میں پاکستانی وزارت داخلہ کی عمارت میں شروع ہوا تھا جس میں ایران کی جانب سے وزارت داخلہ کے انتظامی اور سکیورٹی امور کے سربراہ ڈاکٹر حسین ذوالفقاری نے شرکت کی- یہ اجلاس جمعہ کی سہ پہر اکیس شقوں پر مشتمل تعاون کی ایک دستاویز پر دستخط کے بعد ختم ہو گیا-
.......
/169