اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اتوار کے روز قطر کے شہر دوحہ میں اقوام متحدہ کی کرائم پریوینشن اور کریمنل جسٹس (United Nations Congress on Crime Prevention and Criminal Justice) کی تیرہویں کانفرنس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات سے حاصل ہونے والے نتائج کو ایک اہم تبدیلی قرار دیا- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ فریقین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے سے جامع سمجھوتے کا راستہ ہموار ہوا ہے-
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کے قانون سازوں اور اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں دخل اندازی نہ کریں- امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کے روز قانون سازوں سے کہا کہ وہ تیس جون کی ڈیڈ لائن سے قبل ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں مداخلت نہ کریں- جان کیری نے سی بی ایس ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ تیرہ اور چودہ اپریل کو امریکی کانگریس کے اراکین کے لئے لوزان سمجھوتے کی وضاحت کریں گے-
دریں اثناء امریکی صدر نے بھی پاناما میں براعظم امریکہ کے سالانہ سربراہی اجلاس میں کہا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات اور خارجہ پالیسی کے دوسرے مسائل سے متعلق جماعتی بحث اپنی حد سے آگے بڑھ چکی ہے اب اس بحث کو ختم ہو جانا چاہئے- باراک اوباما نے لوزان معاہدے کی مخالفت کرنے کی بناء پر ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مک کین سمیت سینیٹ کے بعض اراکین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بات سے قطع نظر کہ کونسی جماعت اور کون امریکہ کا صدر یا وزیر خارجہ ہے، خارجہ پالیسی کو چلانے کا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے- واضح رہے کہ جان مک کین نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایرانی حکام نے اس سمجھوتے کی جو تشریح کی ہے وہ اس سمجھوتے کے بارے میں جان کیری کی وضاحت کی نسبت زیادہ صحیح اور منطقی ہے- ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے نو روز کے مذاکرات کے بعد دو اپریل کو کہا تھا کہ ان کے درمیان جامع سمجھوتے تک رسائی کے طریقوں پر اتفاق رائے طے پا گیا ہے- ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے پاس ایران کے ایٹمی سمجھوتے تک رسائی کے لئے تیس جون تک کا وقت ہے-
.......
/169