اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نیوز چینل ایشیا ٹائمز نے ایک رپورٹ میں سویزر لینڈ میں جوہری مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان صادر کیے جانے کو ،پانچ جمع ایک کے ملکوں کی جانب سے ایران کو خطے کی ایک بڑی اہم طاقت کے طور پر تسلیم کیا جانا قرار دیا ۔
ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ بیان کہ جو گذشتہ رات لوزان میں محمد جواد ظریف ،جمہوریء اسلامیء ایران کے وزیر خارجہ ،اور فیڈریکا موگرینی ،اور یورپین یونین کی خارجی سیاست کے ذمہ دار ،کے توافق سے منظر عام پر آیا علاقائی ذرائع ابلاغ خاص طور سےایشیا نیوز چینل پر اس کو بڑے پیمانے پر جگہ دی ہے ۔
اس نیوز چینل نے ایک رپورٹ میں ہانگ کانگ سے لکھا ہے :ایران اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان گذشتہ رات ایک سمجھوتہ ہوا ہے اور یہ سمجھوتہ سب سے زیادہ ایران کے لیے قابل توجہ نتائج کا حامل ہے ۔
اس ذریعے نے لکھا ہے : ایران اور اس ملک کے مطالبات کو پانچ جمع ایک کے ملکوں کی جانب سے تسلیم کرنا ،ان طاقت فرسا اور طولانی مذاکرات کے اختتام پر ایران کے لیے ایک اہم محصول اور بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے ۔
اس ذریعے نے اس کامیابی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید لکھا ہے : یہ سلسلہ ایران اور چین کے درمیان تعاون میں تقویت کا باعث ہو گا ۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر ایران چین کو توانائی صادر کرنے والا ایک بڑا ملک ہے ،اور سلامتی کے اعتبار سے بھی پیکن کے لیے اہم شریک شمار ہوتا ہے ۔
ایشیا ٹائمز نے آگے لکھا ہے :ایران کامیابی کے ساتھ اپنے شریکوں کے ساتھ تعاون ایجاد کرنے اور بڑھانے کی حالت میں ہے ۔
اس چینل نے دنیا کے مختلف حصوں منجملہ مشرق وسطی میں ایران کی کامیابیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران ایک اچھے اور مثبت ارادے کی بات کرتا ہے کہ جس کو سب نے تسلیم کیا ہے ۔
اس رپورٹ میں آیا ہے کہ عالمی سوسائٹی کو آخر کار ایران کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا اور ان کا اتحاد اور اجماع سامنے آیا اور یہ ایران اور طرفین کے لیے ایک کارآمد فیصلہ تھا ۔
ایشیا ٹائمز نے اس سے آگے بڑھ کر مزید لکھا ہے کہ یہ کامیابی ایران کے لیے ثبت ہو چکی ہے اور سعودی عرب کی بہت بڑی شکست ہے کہ جس کو سیکیوریٹی کی مشکلات کا سامنا ہے ۔
ایشیا ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ایران اور سعودی عرب کی سیاست کا مقایسہ کرتے ہوئے تہران کی ڈیپلومیسی کو کامیاب اور سعودی عرب کے تحرکات کو ناکامی سے تعبیر کیا ہے اور اس ملک کے یمن پر حملے کو ریاض کا سیاسی میدان میں غلط اقدام قرار دیا ہے ۔
اس چینل نے ایسی حالت میں متعلقہ رپورٹ کو نشر کیا ہے کہ چین کی سرکاری نیوز ایجینسی نے بھی جوہری مذاکرات میں دنیا کی بڑی طاقتوں کے ایران کے ساتھ سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے ۔
شین ھوا نے یاد دلایا ہے کہ فریقین لوزان میں مشترکہ حل کے راستے اہم مسائل کے لیے ڈھونڈھنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲