30 مارچ 2015 - 12:14
سعودی جارحیت، حملہ امریکہ سے طویل مشاورت کا نتیجہ

امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر نے یمن پر حملے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ ریاض کے کئی ماہ کے صلاح و مشورے کا اعتراف کیا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے حوالے سے ہمارے نمائںدے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر نے اسکائی نیوز چینل سے بات چیت میں یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ یمن پر حملہ امریکی حکومت سے صلاح و مشورے کے بعد شروع کیا گیا، کہا کہ یہ صلاح و مشورے اب بھی جاری ہیں- انھوں نے کہا کہ یمن میں زمینی فوج بھیجنے کا امکان بھی موجود ہے لیکن یہ صلاح و مشورے حالیہ ہفتوں کے دوران حالات بحرانی ہونے کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں- عادل الجبیر نے مزید کہا کہ یمن کے خلاف ہوائی حملے امریکی حکام کے ساتھ کئی ماہ کے صلاح و مشورے کے بعد شروع کیے گئے- انھوں نے اس انٹرویو میں کہا کہ یمن پر سعودی عرب کے حملوں کا مقصد، کہ جن میں بہت سے عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی ہوئی ہے، بقول ان کے ملت یمن کی حمایت کرنا ہے- اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور بعض عرب ملکوں کے یمن پر فوجی حملے یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کے دفاع کے مقصد سے شروع کیے گئے ہیں اور یہ حملے منصور ہادی کی اقتدار میں واپسی تک جاری رہیں گے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲