27 مارچ 2015 - 09:38
یمن کا بحران: عمان جارحیت میں شامل نہیں

آل سعود کے حکام کے دعوؤں کے برخلاف خلیج فارس کے تمام عرب ممالک سعودی اتحاد میں شامل نہیں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عمان نے جو خلیج فارس تعاون کونسل کے چھے عرب ملکوں میں شامل ہے، یمن پر جارحیت کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ ادھر سامراجی مغربی ممالک جیسے برطانیہ اور فرانس نے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کی حمایت کی ہے۔ علاقے میں سامراج اور صیہونی حکومت کے پٹھو اور حمایت یافتہ بعض ممالک جیسے مصر، متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے یمن کے نہتے عوام پر سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت کی حمایت کی ہے۔ ادھر مغربی ملکوں کے انٹلجنس ذرائع نے رپورٹ دی ہےکہ صیہونی حکومت کے طیاروں نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن کے بے گناہ عوام کو اپنے بہیمانہ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے سعودی عرب کے شہروں پر میزائل برسائے ہیں جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں کےسات ہوائی اڈوں پر طیاروں کی آمد و رفت بند کردی گئی ہے۔ دریں اثنا یمن کے ذرایع نے خبردی ہے کہ انصارللہ کے جیالوں نے متحدہ عرب امارات کا ایک اور سعودی عرب کے دو جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تیس جنگی طیاروں اور کویت و بحرین نے پندرہ پندرہ لڑاکا طیاروں نیز قطر نے دس طیاروں کے ساتھ یمن کے نہتے عوام پر بم برسانے کی کارروائیوں میں شرکت کی ہے۔ یمن کے حکام نے سعودی عرب اور اس کے پٹھوؤں کی جارحیت کے بعد اہم بندرگاہوں کے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق یمن میں عدن، المکلاء، المخاء اور الحدیدہ بندرگاہوں کو بند کردیا گیا ہے۔ ادھر یمن کی فوج اور سابق صدر منصور ہادی کے حامیوں کے درمیان پراکندہ چھڑپیں جاری ہیں۔ یہ جھڑپیں عدن کے بعض علاقوں میں ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے جارح طیاروں نے یمن کے شمالی علاقے صعدہ پر حملے کئے ہیں جبکہ صنعا کے انٹرنیشنل ایرپورٹ کے اطراف حملوں میں متعدد یمنی شہری شہید ہوگئے۔ یمن کے قبائلی عما‏ ئدین اور سیاسی پارٹیوں نے بھی آل سعود کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جارحیت کے نتیجے میں یمن کی قوم ماضی کی نسبت زیادہ متحد ہو کر یمن کے انقلاب اور انقلابیوں کی حمایت کرے گی۔

.......

/169