اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک ایسے وقت جب گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے ایٹمی مذاکرات حساس اور اختتامی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں،سعودی وزیرخارجہ سعود الفیصل نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ایران کے ایٹمی مذاکرات کےبارے میں کہا کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرناچاہیے کہ بقول ان کے جس کا تہران اہل نہیں ہے ۔ سعودی وزیرخارجہ سعود الفیصل نے ریاض میں اپنے برطانوی ہم منصب فلپ ہیمنڈ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں شام، عراق، بحرین، یمن اور دیگر ملکوں میں سعودی عرب کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں اور دہشت گردوں کی کھلی حمایت کو یکسر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران عرب ممالک کے خلاف مخاصمانہ اور مداخلت پسندانہ پالیسیاں اختیار کرکے مسلکی تصادم شروع کرانا چاہتاہے، سعودی وزیرخارجہ نے دعوی کیا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو ایٹمی ہتھیاروں اور علاقے اور دنیا کی سلامتی کے لیے خطرے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی وزیر خارجہ نے اسی طرح یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کی حکومت کو اس ملک کی قانونی حکومت قرار دیا اور یمن کے سرکاری اداروں سے انصار اللہ کے افراد کے نکلنے کا مطالبہ کیا۔ سعود الفیصل نے یمن کی سلامتی کو خلیج فارس تعاون کونسل کے تمام ملکوں کی سلامتی قرار دیا۔ خیال رہے کہ سعودی وزیرخآرجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن کی عوامی کمیٹیوں کے رہنماؤں نے جمعے کو صنعامیں ہونےوالے بھیانک دہشت گردانہ حملوں میں سعودی عرب کو ملوث قراردیا ہے - یمن کی عوامی تحریک کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے بھی اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب، قطر، اسرائیل اور امریکا یمن میں دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں - دوسرے ملکوں میں مداخلت کرنے کے تعلق سے ایران پر سعودی وزیرخارجہ کا یہ الزام ایک ایسے وقت لگایا گیاہے جب مصر کے پہلے منتخب صدر مرسی کا تختہ الٹنے میں سعودی عرب کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے اور شام لیبیا،بحرین اور عراق میں اس کی کھلی مداخلت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں داعش جیسے خطرناک گروہ کی سب سےزیادہ حمایت سعودی عرب ہی کررہا ہے -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲