23 مارچ 2015 - 11:03
۱۵ سالہ ایزدی لڑکی: مجھے داعش نے تین مردوں کو فروخت کیا

سامیہ نامی ۱۵ سالہ ایزدی لڑکی جسے گزشتہ سال سنجارکے علاقے سے داعش کے عناصر نے اغوا کیا تھا کا کہنا ہے کہ داعش نے اس کے بھائی کا قتل کر دیا اور اسے تین مردوں کو بیچ دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق میں ایزدی قبیلے کی خواتین دھشتگرد ٹولے داعش کی بربریت کا شکار ہیں داعش کے عناصر نے سینکڑوں ایزدی خواتین کو اغوا کر رکھا ہے جبکہ کئی خواتین کے ساتھ اپنی جنسی ہوس مٹانے کے بعد انہیں فروخت کر دیا ہے۔
اس درندہ صفت ٹولے سے بھاگ کر جان بچانے والی خواتین نے اپنی دلسوز داستانیں میڈیا کو بیان کیں۔ سامیہ نامی ۱۵ سالہ ایزدی لڑکی جسے گزشتہ سال سنجارکے علاقے سے داعش کے عناصر نے اغوا کیا تھا کا کہنا ہے کہ داعش نے اس کے بھائی کا قتل کر دیا اور اسے تین مردوں کو بیچ دیا۔
ایزدی لڑکیوں کے ساتھ داعش کے جنسی تجاوزات
سامیہ ان خوش قسمت خواتین میں سے ایک ہے جو کم سے کم ایک سال کے بعد داعش کے چنگل سے اپنی جان چھڑانے میں کامیاب ہو گئی وہ اس وقت عراق کی ایک پناہ گاہ میں زیر علاج ہے۔
سامیہ کو متعدد بار داعش کے عناصر نے جنسی اذیت و آزار کا شکار بنایا لیکن سامیہ اکیلی لڑکی نہیں تھی جو داعش کی بربریت کا شکار رہی بلکہ اس کی طرح کی سینکڑوں لڑکیاں داعش کے ہاتھوں مورد تجاوز واقع ہو رہی ہیں۔
داعش کے عناصر حتی کم سن لڑکیوں پر بھی رحم نہیں کرتے اور جہاد النکاح کی آڑ میں جو بھی عورت یا لڑکی ان کے ہاتھ لگے اس کے ساتھ تجاوز کرتے ہیں وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔
داعش نے گزشتہ سال سنجار کے علاقے پر حملہ کر کے وہاں کے رہنے والے مردوں کا قتل عام کر دیا تھا جبکہ عورتوں اور لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا دقیق اطلاع کے مطابق تین ہزار سے زیادہ لڑکیوں اور عورتوں کو داعش نے اغوا کیا جن میں سے تاہم ۹۰۰ خواتین خود کو داعش کے چنگل سے بچانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲